پاکستان کا اسرائیل پر حملہ؟ ’را‘ کا گھٹیا پروپیگنڈا بے نقاب، مزید شواہد سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
احمد منصور: پاکستان کی جانب سے اسرائیل پر جوہری حملے کی دھمکی کا جھوٹا اور من گھڑت پروپگینڈا بے نقاب, انتہا پسند بھارتی حکومت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کے مزید شواہد منظر عام پر آگئے۔
بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پاکستان کیخلاف زہریلا پروپیگنڈا شروع کیا، را کے فیک اکاؤنٹ @Iriran_official نے دعویٰ کیا کہ’ اسرائیلی چینلز کے مطابق پاکستان نے امریکا کو آگاہ کیا کہ اگر ایران پر جوہری حملہ ہوا تو پاکستان اسرائیل کے خلاف جوہری ردعمل دے گا‘‘
ایران اور اسرائیل کو ایک معاہدہ کرنا چاہیے اور وہ کرینگے؛ ڈونلڈ ٹرمپ
بھارتی خفیہ ایجنسی را کے اس منفی اور بے بنیاد پروپیگنڈے کا مقصد اسرائیل کیلئے ہمدردیاں پیدا کرنا ہے، اس زہریلے پروپیگنڈے کو پاکستان کی وزارت خارجہ نے یکسر مسترد کردیا ہے۔
حکومت پاکستان واضح کرچکی ہے کہ وہ ایران کی بین الاقوامی فورمز پر اخلاقی اور سفارتی مدد جاری رکھے گی،اس خبر کے جھوٹا ہونے کا یہ بھی ثبوت ہے کہ بیان کے ساتھ ایکس کا ایک وضاحتی نوٹ بھی شامل کیا گیا ہے۔
وضاحتی نوٹ کے مطابق ’کسی بھی مستند یا سرکاری ذرائع نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ پاکستان نے امریکا کو ایسا کوئی پیغام دیا ہے‘‘
ایران کا اسرائیل پر ایک اور حملہ ، 50 بیلسٹک میزائل داغ دیئے
خواجہ آصف کے حوالے سے جھوٹ بولا گیا کہ پاکستان نے ایران کو حملے سے قبل انٹیلی جنس معلومات فراہم کیں،خواجہ آصف نے 14 جون کو قومی اسمبلی میں ایسا کوئی اعتراف نہیں کیا۔
اب آر ٹی وی نے بھی اس بیان کی غلط تشریح کرنے پر معذرت کی ہے، ایک طرح سے آر ٹی کا بھی یہ اقرار ہے کہ یہ پروپیگنڈا تھا جس شکار وہ بھی ہوئے ہیں۔
اس سے قبل بھارتی خفیہ ایجنسی را اور اسرائیل ملکر پاکستان کو FATF گرے لسٹ میں شامل کرانے پر کام کرتے رہے،پاکستان کو FATF گرے لسٹ میں شامل کرانے میں ناکامی کے بعد اب "را" نے یہ گھٹیا پروپیگنڈا شروع کردیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ترکیہ کے وزیر خارجہ کا ٹیلفونک رابطہ
اس منفی پروپیگنڈے کا مقصد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ امریکا سے توجہ ہٹانا بھی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔