بھارتی سائفر نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور بھارتی ایجنسیوں کے تعلق کو بے نقاب کر دیا: چوہدری انوارالحق
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
چوہدری انوارالحق — فائل فوٹو
وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے کہا ہےکہ بھارتی سائفر ڈارک ویب پر لیک ہوا جس نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور بھارتی ایجنسیوں کے تعلق کو بے نقاب کردیا۔
جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا کہ چور کی داڑھی میں تنکا نہیں تو ایکشن کمیٹی وضاحت کیوں دے رہی ہے، ایکشن کمیٹی تشدد کا راستہ چھوڑ کر آئینی و قانونی راستے پر آئے، آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان اور بیرون ملک مقیم کشمیریوں کی مخصوص نشستوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعظم خواہش ہوگی، حالات پرامن رہیں اور انسانی جانوں کے ضیاع کے اندیشوں سے بچنے کی کوشش کریں۔
چوہدری انوار الحق نے کہا کہ ایکشن کمیٹی پرانی فوٹیجز چلا کر نوجوانوں کے ذہن کو گندا کررہی ہے جس میں سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جارہا ہے، یہ ہجوم جمع کرکے کیا کرنا چاہتے ہیں؟
وزیراعظم آزاد کشمیر نے مزید کہا کہ انہوں نے کبھی 3 روپے بجلی نہیں مانگی وہ تو ہم نے اس کے لیے کوشش کی، یہ تو پاکستان کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ جو چیز دنیا میں کہیں نہیں ہوتی مگر ہم آزاد کشمیر کے لوگوں کو دیں گے تاکہ رشتے میں دراڈ نہ آئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایکشن کمیٹی کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔