پشین میں زلزلے کے شدید جھٹکے، شہری خوفزدہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
ویب ڈیسک: بلوچستان کے علاقے پشین میں پیر کے روز زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہری خوف و ہراس کا شکار ہو گئے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4.4 ریکارڈ کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق زلزلے کا مرکز پشین سے 21 کلومیٹر جنوب مشرق میں تھا جبکہ اس کی گہرائی 12 کلومیٹر زیرِ زمین تھی۔ زلزلے کے فوری بعد شہریوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی، کئی افراد گھروں سے باہر نکل آئے اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے رہے۔
کاہنہ میں غیرت کے نام پر میاں بیوی قتل
تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تاہم آفٹر شاکس کے خدشے کے پیش نظر عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق کراچی میں ریکارڈ کیے گئے دو زلزلوں کی شدت بالترتیب 2.
ماہرین کے مطابق یکم جون سے کراچی میں زلزلے کے جھٹکوں کی مجموعی تعداد 42 ہو چکی ہے، جو خطے میں موجود زیرِ زمین فالٹ لائنز کی سرگرمی کو ظاہر کرتی ہے۔
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا دورہ امریکہ،اوورسیز پاکستانیوں کاپرتپاک استقبال
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
روس(نیوز ڈیسک)روس نے منگل کی صبح یوکرین پر سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے شدید حملے کیے جن کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملے کیف اور ڈنیپرو سمیت مختلف شہروں پر کیے گئے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیف پر یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نےکہا کہ رات بھر ہونے والے حملوں میں روس نے 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرونز داغے۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکا سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کے کم ہوتے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کیے جائیں۔
حکام کے مطابق کیف ان حملوں کا مرکزی ہدف تھا، جہاں کم از کم 9 بلند و بالا عمارتوں، ایک اسکول، ایک کلینک، دفاتر اور انتظامی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
بجلی فراہم کرنے والی یوکرینی کمپنی کے مطابق حملے کے باعث عارضی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار افراد بھی بجلی سے محروم ہوگئے۔
یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے مجموعی طور پر 656 ڈرونز اور 73 میزائل فائر کیے جن میں 33 بیلسٹک میزائل اور 8 زرکون ہائپرسونک میزائل شامل تھے، جو اس جنگ کے دوران اس نوعیت کے میزائلوں کا ممکنہ طور پر سب سے بڑا استعمال ہے۔
روس کے مطابق زرکون میزائل کی رینج 1000 کلومیٹر ہے اور یہ آواز کی رفتار سے 9 گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق 40 میزائلوں اور 602 ڈرونز کو مار گرایا یا ناکارہ بنا دیا گیا تاہم گرائے گئے میزائلوں میں زرکون میزائلوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں۔رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا