تمام تربیتی اداروں کی بین الاقوامی ایکریڈٹیشن کروائی جائے؛ وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
سٹی 42 : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان بھر میں وفاقی اور صوبائی پیشہ ورانہ اداروں میں دی جانے والی تربیت کو بین الاقومی معیار کا بنایا جائے تاکہ نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار تلاش کرنے میں آسانی ہو، تمام تربیتی اداروں کی بین الاقوامی ایکریڈٹیشن کروائی جائے، بین الاقوامی معیار کی تربیت سے ہماری افرادی قوت کی بیرون ملک کھپت بڑھے گی اور زر مبادلہ میں اضافہ ہوگا۔
ریپ کے مجرم کو 25 سال قید کی سزا
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک) کے امور اور پیشہ ورانہ تربیت کے حوالے سے اجلاس ہوا۔
وزیر اعظم کو پیشہ ورانہ تربیت کے حوالے سے لئے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا کہ نیوٹیک نے ملک بھر میں وفاقی اور صوبائی تربیتی اداروں کی میپنگ کرلی ہے۔ نیوٹیک کے نیشنل ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم کا آغاز فعال ہو چکا ہے۔ پبلک سیکٹر کے تمام پیشہ ورانہ تربیتی پروگرامز کو نیو ٹیم کے سنگل ریگولیٹری فریم ورک کے تحت لایا جا رہا ہے اور نصاب کی اسٹینڈرڈائزیشن بھی کی جا رہی ہے ۔
مخصوص نشستیں کیس؛ سپریم کورٹ آئینی بینچ کی سماعت کل تک ملتوی
بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیوٹیک کے زیر انتظام 2023-24 میں دی گئی ٹریننگ کے %53 افراد کو ملازمتیں مل چکی ہیں، یہ ڈیٹا تربیت کے چھ ماہ بعد حاصل کیا گیا تھا۔ مزید بتایا گیا کہ 2020 سے 2024 تک نیوٹیک کے تحت پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے والے 25 ہزار سے زائد افراد کو بیرون ملک ملازمت ملی۔ اس سال ایک لاکھ 46 ہزار افراد کو خدمات، سیاحت ، آئی ٹی، بینکنگ، ٹیکسٹائل اور تعمیرات کے شعبوں میں پیشہ ورانہ تربیت دی گئی شامل ہیں؛ اگلے سال کا ہدف 3 لاکھ پچاس ہزار ہے۔
شہریوں میں خوشیاں بانٹتے ہیں، بے جا تنگ نہ کیا جائے، ٹولنٹن مارکیٹ والوں کی مریم نواز سے اپیل
اجلاس میں وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، چئیر مین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پیشہ ورانہ تربیت
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔