وزیراعظم کا ورلڈ بیسٹ سکول پرائزز 2025 میں تین پاکستانی سکولوں کو ٹاپ ٹین کمیونٹی تعاون سے چلنے والے سکولوں میں جگہ بنانے پر خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 جون2025ء) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ورلڈ بیسٹ سکول پرائزز 2025 میں تین پاکستانی سکولوں کو دنیا کے ٹاپ ٹین کمیونٹی تعاون سے چلنے والے سکولوں میں جگہ بنانے پر خراج تحسین پیش کیا ہے ۔
(جاری ہے)
وزیر اعظم نےورلڈ بیسٹ سکول پرائزز 2025 میں تین پاکستانی سکولوں،سنجن نگر پبلک ایجوکیشن ٹرسٹ ہائر سیکنڈری سکول لاہور، بیکن ہاؤس کالج پروگرام (جونیپر کیمپس) کوئٹہ اور نارڈک انٹر نیشنل سکول، لاہور کو دنیا کے ٹاپ ٹین کمیونٹی تعاون سے چلنے والے سکولوں میں جگہ بنانے پر ان سکولوں کی انتظامیہ، اساتذہ اور طلباء کو خراج تحسین پیش کیا ہے ۔
جمعرات کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ ان سکولوں نے جدید نصاب، تحقیق، ٹیکنالوجی ، ماحولیات، پسماندہ اور دیہی علاقوں کی ترقی کے حوالے سے اپنا نام بنایا ہے،ان تعلیمی اداروں نے ملک کا نام پوری دنیا میں روشن کیاہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے تعلیمی ادارے ہم سب کے لئے مشعل راہ ہیں ،حکومت پاکستان ملک میں جدید تعلیم کے فروغ کے لئے کوشاں ہے ۔\932.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔