UrduPoint:
2026-07-24@01:51:13 GMT

ایران کے ساتھ کوئی نیا فوجی تعاون نہیں ہوا

اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT

ایران کے ساتھ کوئی نیا فوجی تعاون نہیں ہوا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2025ء) وزیر دفاع نے ایران کو عسکری مدد فراہم کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی نیا فوجی تعاون نہیں ہوا، ایران کے ساتھ 13 جون کے بعد کسی نئے دفاعی معاہدے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئی، ایران کے ساتھ بارڈر سیکیورٹی کے حوالے سے معمول کے رابطے جاری ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے عرب نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ایران اسرائیل کشیدگی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ کوئی نیا فوجی تعاون نہیں ہوا اور 13 جون کے بعد کسی نئے دفاعی معاہدے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئی۔ ایران کے ساتھ بارڈر سیکیورٹی کے حوالے سے معمول کے رابطے جاری ہیں، جبکہ اسرائیل اور ایران کی کشیدگی پر امریکا سے کسی مخصوص بات چیت نہیں ہوئی۔

(جاری ہے)

پاکستان کی خارجہ پالیسی کی توجہ چین اور مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات پر مرکوز ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ موجودہ تنازع پورے خطے کو تباہ کن جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے، اسی لیے پاکستان خطے کے ممالک کو امن کے لیے متحرک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر اسرائیل ایران تنازع طول پکڑتا ہے تو پاکستان کو اپنی سرحدی سیکیورٹی پر زیادہ توجہ دینا ہوگی، لیکن پاکستان کی اولین ترجیح امن کی کوششیں ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا کہ تصادم بڑھنے کی صورت میں عالمی توانائی کی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

پاکستان کی جوہری تنصیبات مکمل طور پر محفوظ اور مضبوط حفاظتی انتظامات کے تحت ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ فی الحال اسرائیل سے کسی فوری خطرے کا امکان نہیں، اور پاکستان اپنی جوہری تنصیبات کے تحفظ پر مکمل اطمینان رکھتا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے پاکستان کو ایران سے جوڑنے والے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر ممکنہ خطرے پر چوکنا ہے۔

مسلح افواج بھارت کے ساتھ حالیہ جھڑپوں کے بعد مسلسل ہائی الرٹ پر ہیں۔ خواجہ آصف نے اسرائیل کو توسیع پسند ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ اور ایران پر اسرائیلی جارحیت خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی دفاعی حکمت عملی میں جوہری اثاثے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ عالمی رائے عامہ بھی اب اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ جنگ میں پاکستان نے بھارت کے خلاف اپنی عسکری برتری بھی ثابت کی ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت اسرائیل کو کسی بھی مہم جوئی سے روکنے کے لیے کافی ہے۔ میرا نہیں خیال کہ نیتن یاہو یا اسرائیلی حکومت پاکستان سے ٹکرانے کا سوچ سکتی ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ایران کے ساتھ پاکستان کی وزیر دفاع نے کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم