اسلام آباد(نیوز ڈیسک )وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) کے امور پر اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں ادارے کی موجودہ کارکردگی اور سمندری تجارتی صلاحیت کو بہتر بنانے کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم نے اجلاس میں پی این ایس سی کے بیڑے میں فوری اضافے کی ضرورت پر زور دیا اور لیز پر بحری جہاز حاصل کرنے کی ہدایت جاری کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی بیڑے میں جہازوں کی کمی کے باعث سمندری راستے سے تجارت کے لیے قومی خزانے کو ہرسال قریباً 4 بلین ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بیرون ملک منتقل کرنا پڑتا ہے، جو معیشت پر ایک بھاری بوجھ ہے۔

وزیراعظم نے واضح ہدایت دی کہ آئندہ 2 ہفتوں کے اندر ایک جامع بزنس پلان پیش کیا جائے، جس میں نہ صرف موجودہ بیڑے میں توسیع کا لائحہ عمل ہو بلکہ قومی خزانے سے زرمبادلہ کے اخراجات کم کرنے کے لیے قابلِ عمل تجاویز بھی شامل ہوں۔

اجلاس میں وزیراعظم کو ادارے کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ پی این ایس سی کے موجودہ بیڑے میں مختلف نوعیت کے 10 بحری جہاز شامل ہیں، جو مجموعی طور پر 724,643 ٹن کارگو اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری اور پی این ایس سی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ شرکا نے موجودہ تجارتی چیلنجز اور جہاز رانی کے شعبے میں ممکنہ اصلاحات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پی این ایس سی کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے خود کفالت کی جانب گامزن کیا جائے، تاکہ ملک کے قیمتی زرمبادلہ کو محفوظ بنایا جاسکے اور قومی تجارت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پی این ایس سی بیڑے میں

پڑھیں:

واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار

اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔

، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔

دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ