چینی کوسٹ گارڈ کی فلپائن کے ایک سرکاری جہاز کے خلاف پیشہ ورانہ کارروائی
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
بیجنگ :چائنا کوسٹ گارڈ کے ترجمان لیو ڈہ جون نے کہا کہ فلپائن کے سرکاری جہاز نمبر 3006 نے چین کی جانب سے بار بار ہدایات اور انتباہ کے باوجود چین کے جزیرہ ہوانگ یان کی سمندری حدود میں داخل ہونے پر اصرار کیا ۔ کوسٹ گارڈ قانون اور کوسٹ گارڈ ایجنسیوں کے انتظامی قانون نافذ کرنے کے طریقہ کار کی دفعات کے مطابق ، چائنا کوسٹ گارڈ نے فلپائنی جہاز کو اپنے پانیوں سے نکالنے کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے ہیں ، اور سائٹ پر آپریشن پیشہ ورانہ ، معیاری ، جائز اور قانونی ہے۔ فلپائن کے اقدامات نے چین کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کی ہے اور بین الاقوامی قانون اور چینی قانون کی متعلقہ دفعات کی خلاف ورزی کی ہے۔ فلپائن کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیزی اور ہنگامہ آرائی اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی کہ جزیرہ ہوانگ یان کا تعلق چین سے ہے۔ چائنا کوسٹ گارڈ چین کی علاقائی خودمختاری اور بحری حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کوسٹ گارڈ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔