وفاقی وزیر ریلوے کی زیر صدارت اجلاس، جاری تحقیقات کا جائزہ لیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 جون2025ء)وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان ریلوے سے متعلق جاری تحقیقات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پرٹرین حادثات، ریل کاپ بے ضابطگیوں اور دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔جون 2025 کے دوران سکھر، ملتان اور پشاور میں حادثات کا جائزہ لیا گیا،حالیہ ٹرینوں کے پٹڑی سے اترنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر مختلف پہلووں کا جائزہ لیا گیا۔
وزیر ریلوے نے کہا کہ سفارشات اور آئندہ کا لائحہ عمل تیار کر کے مجاز اتھارٹی کو جمع کرایا جائے، اس کے علاوہ عوام ایکسپریس کی کراچی سے روانگی میں تاخیر پر بھی رپورٹ طلب کی گئی۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ خانیوال میں فٹ اوور برج کے واقعے پر رپورٹ جلد جمع کرائی جائے،شاہین آباد کوارری کے بند ہونے کے معاملے کی ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔(جاری ہے)
وزیر ریلوے کو بتایا گیا کہ ریل کاپ میں بے ضابطگیوں پر فیکٹ فائنڈنگ انکوائری آخری مراحل میں ہے، جس کی سربراہی آئی جی پی آر پی کررہے ہیں۔
بیضابطگیوں میں ملوث افسران کے خلاف فوجداری کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ایف آئی اے کے ذریعے ریل کاپ کیس کی تحقیقات کی تجویز بھی دی گئی۔وزیر ریلوے نے بدعنوانی پر زیرو ٹالرنس کا اعادہ کیا ، اجلاس میں دیگر مالی اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق امور بھی زیر غورلائے گئے۔وزیر ریلوے نے کارکردگی نہ دکھانے والے عملے کے خلاف سخت ایکشن کا عندیہ دیا۔انہوں نے کہا کہ اچھی کارکردگی پر انعامات و تعریفی اسناد دی جائیں گی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وزیر ریلوے نے کا جائزہ لیا
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،