سینکڑوں قدامت پسند یہودی شرم الشیخ کے راستے امریکا فرار
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
صہیونی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ سینکڑوں مذہبی یہودی(حریدیم) اسرائیل سے مصر کے شہر شرمِ الشیخ کے راستے امریکافرار ہوگئے ہیں۔ یہ اطلاعات اسرائیلی ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں جن کے مطابق گزشتہ دنوں بہت سے حریدیم (قدامت پسند یہودی)نے ریڈ سی کنارے واقع اس عبوری راستے کا استعمال کیا، تاکہ وہ جنگ زدہ ماحول سے نکل کر یورپ یا براہ راست امریکا منتقل ہو سکیں۔
یہ اقدام اسرائیل پر ایران کے حالیہ میزائل حملوں کے بعد پیش آنے والی خوف ناک صورتِ حال کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔ راہ فرار اختیار کرنے والوں میں سے اکثر افراد کے پاس دوہری شہریت یا یورپی پاسپورٹ ہونے کی وجہ سے ان کے لیے مصر سے متحرک ہو کر امریکہ جانا ممکن ہوا۔
اس فرار کے پیچھے بنیادی محرک خوف اور جنگی خطرات ہیں جنہوں نے حریدیم کمیونٹی کو محفوظ راستہ تلاش کرنے پر مجبور کیا۔ اس کے علاوہ متعدد یہودی سیاسی اور انسانی امدادی گروپس نے بھی ان افراد کی نقل و حرکت کی تصدیق کی ہے، اور کہا ہے کہ یہ ایک چھپی ہوئی لہر ہے جس پر فوری توجہ درکار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔