ایرانی وزیر خارجہ کا دوٹوک مؤقف: اسرائیلی حملے بند نہ ہوئے تو جوہری مذاکرات نہیں ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جنیوا: ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک اسرائیل کی جانب سے شہری آبادی پر حملے بند نہیں کیے جاتے، اُس وقت تک جوہری مذاکرات پر بات چیت ممکن نہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ’’ہم نے یورپی رہنماؤں کے ساتھ سنجیدہ اور باوقار بات چیت کی۔ ایران ایک بار پھر سفارت کاری پر غور کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اسرائیل کے حملے جاری رہے تو کسی مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا اور نہ ہی اسے مذاکرات کا موضوع بنایا جا سکتا ہے۔ عراقچی نے اسرائیل پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی افواج جان بوجھ کر ایران کی شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں، جو انسانی اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لامی نے اس موقع پر ایران پر زور دیا کہ وہ امریکا کے ساتھ براہِ راست بات چیت کا راستہ کھلا رکھے، کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں جانب سے سفارتی کھڑکیاں بند نہیں ہونی چاہییں۔
خیال رہےکہ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور یورپی وزرائے خارجہ کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں خطے کی صورتحال، ایران اسرائیل کشیدگی اور جوہری معاہدے سے متعلق امور زیر غور آئے، مذاکرات میں جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔
یاد رہے کہ ایران نے گزشتہ اتوار کو مسقط میں شیڈول جوہری مذاکرات کے چھٹے دور میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا نے اسرائیلی حملوں کی حمایت کی ہے، اس لیے ایسی صورتحال میں کسی قسم کی جوہری بات چیت بے معنی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بات چیت
پڑھیں:
ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیاازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ بخیتار سیدوف کو پیش کردیں۔
مدثر ٹیپو کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے اعزاز ہے کہ انہوں نے وزیرخارجہ سے ملاقات میں یہ اسناد پیش کیں۔
ازبک وزیر خارجہ بختیار سیدوف کا کہنا تھا کہ ملاقات میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔