او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا 2 روزہ اجلاس کل ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
سٹی 42: اسلامی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کا ایجنڈا جاری کردیا گیا ، اسلامی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل کا دو روزہ اجلاس کل ترکیہ میں منعقد ہو گا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 51 واں 2 روزہ اجلاس "بدلتی دنیا میں او آئی سی کا کردار" کے تھیم تلے ہو گا, اجلاس کے پہلے روز اجلاس سے قبل فیملی فوٹو بنایا جاے گا, اجلاس کا آغاز کیمرون کے وزیر امور خارجہ لیجیونے مبیلا مبیلا کے خطاب سے ہو گا, کیمرون کے وزیر امور خارجہ لیجیونے مبیلا مبیلا او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے گذشتہ 50ویں کونسل اجلاس کے چئیرمین ہیں,
بجلی صارفین کے لئے بڑی خوشخبری
بیورو کے انتخاب کے بعد کونسل کی چئیرمین شپ کیمرون سے ترکیے کو منتقل کی جاے گی, ترکیہ وقت کے مطابق ساڑھے 11 بجے بطور 51 واں چئیرمین ترکیہ وزیر خارجہ ہاکان فیدان خطاب کریں گے,گیمبیا کے وزیر خارجہ اور 15 ہویں اسلامی کانفرنس کے چئیرمین ممدو تنگارا اپنا بیان جاری کریں گے, سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان بھی کانفرنس سے خطاب کریں گے, اسلامی تعاون تنظیم سیکرٹری جنرل حصین براہیم طحہ سعودی وزیر خارجہ کے بعدخطاب کریں گے۔
کسان بورڈپاکستان کا"کسان بچاؤ،زراعت بچاؤ‘‘تحریک کا اعلان
یو این آر ڈبلیو اے کے جنرل کمشنر فلپ لزارینی, اقوام متحدہ کے نمایندہ خصوصی برایے انسداد اسلاموفوبیا میگوائل اینگل موراٹینوز بھی اجلاس میں خطاب کریں گے,ظہرانے اور نماز کے وقفے سے قبل ترکیہ صدر رچپ طیپ اردوان بھی اجلاس سے خطاب کریں گے,دوپہر 2 بجے سے شام ساڑھے 6 بجے تک پہلے بند کمرہ ورکنگ سیشن کا انعقاد کیا جاے گا, اجلاس کے پہلے روز رات کو ترکیہ وزیر خارجہ ہاکان فیدان شریک وزرائے خارحہ کے اعزاز میں خصوصی عشائیہ دیں گے, اجلاس کے دوسرے روز صبح 9 سے شام 4 بجے تک دو مزید بند کمرہ ورکنگ سیشن کا انعقاد کیا جاے گا,
میگا کرپشن سکینڈل میں نیب لاہور کی رواں سال کی بڑی ریکوری
اجلاس کے دوسرے روز مختلف حتمی دستاویزات پر دستخط کیے جائیں گے,دوسرے روز شام کوہی شریک وزرائے خارجہ باقائدہ قرارداد کے مسودے کی منظوری دیں گے,
اجلاس کے اختتام پر ترکیہ وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور او آئی سی سیکرٹری جنرل حصین براہیم طحی مشترکہ پریس کانفرنس کریں گے,اجلاس کے پہلے روز او آئی سی رابطہ گروپوں کے اجلاس بھی منعقد کیے جائیں گے,وزرایے خارجہ کونسل اجلاس کے پہلے روز ہی او آئی سی آزادانہ مستقل انسانی حقوق کمشن اراکین کا انتخاب بھی کیا جاے گا,
محرم الحرم کی ڈیوٹی انتہائی اہم ہے سکیورٹی معاملات میں تعاون کریں؛ ایس پی ماڈل ٹاؤن
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کے پہلے روز خطاب کریں گے او آئی سی جاے گا
پڑھیں:
یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔
فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔
جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔