وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، ایران اسرائیل بحران کے پرامن حل کی ضرورت پر زور
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ٹیلیفون پر گفتگو کی، اس موقع پر وزیراعظم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم نے ایران اسرائیل بحران کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن کی ہر کوشش میں تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
وزیر اعظم نے پاک بھارت جنگ کا خطرہ ٹالنے پر وزیر خارجہ مارکو روبیو کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
انکا اس موقع پر مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے پاکستان سے متعلق مثبت بیانات جنوبی ایشیا میں امن کے لیے حوصلہ افزا ہیں۔ پاکستان بھارت سے تمام تصفیہ طلب امور پر بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر، سندھ طاس معاہدے، تجارت اور انسداد دہشتگردی پر بھی بات چیت ہونی چاہیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر، سندھ طاس معاہدے، تجارت اور انسداد دہشتگردی پر بھی بات چیت ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کو تجارت، توانائی، آئی ٹی اور معدنیات میں تعاون بڑھانا چاہیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ملک بھر سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعظم نے بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند گروہوں کےخلاف کارروائی جاری رکھنے کا عزم دہرایا۔
امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کی انسداد دہشتگردی کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ امریکا ہر قسم کے دہشتگردی خطرات سے نمٹنے کیلئے پاکستان سے مکمل تعاون کرے گا۔
وزیراعظم نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کو مثبت قراردیا اور پاکستان امریکا تعلقات کو عملی تعاون میں بدلنے پر اتفاق کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کو پاکستان کے دورے کی دعوت دہرائی اور امریکی وزیرخارجہ کو بھی جلد پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔
امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کی خطے میں امن کےلیے کوششوں کو سراہا اور کہا کہ پاکستان ایران کیساتھ اپنے قریبی تعلقات کے ذریعے خطے میں قیام امن میں کردار ادا کرتا رہے، امریکا علاقائی اور عالمی امن و استحکام کیلئے پاکستان سے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف امریکی وزیر خارجہ کہا کہ پاکستان نے کہا کہ
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔