شہید بی بی کا وژن آج بھی مشعلِ راہ ہے، رہنمائی لے کر جمہوریت مضبوط کریں گے، صدر زرداری
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
اسلام آباد:
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ شہید بی بی کا وژن آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے، اس سے رہنمائی لے کر جمہوریت مضبوط کریں گے۔
سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو شہید کی 72 ویں سالگرہ کے موقع پر جاری پیغام میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے اُن کی قومی خدمات اور عظیم قربانیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے جمہوریت، انسانی وقار اور خواتین کے حقوق کے لیے جو ناقابل فراموش جدوجہد کی، وہ آج بھی تاریخ کا روشن باب ہے۔
انہوں نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے آمریت کے خلاف جرأت اور استقامت کے ساتھ مزاحمت کی اور ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے چلنے والی تحریکوں کی قیادت کی۔ وہ قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی پر مکمل یقین رکھتی تھیں۔ ان کا وژن، قربانیاں اور عوام سے گہری وابستگی پاکستان پیپلز پارٹی کی اجتماعی میراث ہیں۔
صدر زرداری کا کہنا تھا کہ شہید بی بی ہمیشہ خواتین کی سماجی اور معاشی خودمختاری کی علمبردار رہیں۔ وہ پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کی آواز بن کر ابھریں اور ایک پرامن، خوشحال اور جمہوری پاکستان کی خواہاں تھیں۔ ان کی اصولی سیاست آج بھی ایک منصفانہ اور جمہوری معاشرے کے قیام کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
صدر مملکت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن سے رہنمائی لیتے ہوئے نہ صرف جمہوریت کو مستحکم کریں گے بلکہ ہر شہری کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بینظیر بھٹو صدر مملکت آج بھی
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔