مودی تو جمہوریت کا جنازہ نکال ہی رہے ہیں، الیکشن کمیشن بھی اس گناہ میں برابر شریک ہے، کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
اپنے ویڈیو پیغام میں وہ عوام کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہتی ہیں کہ میڈیا کو تو مودی کا نام سن کر سانپ سونگھ جائیگا، لیکن غیر جانبدارانہ انتخاب اور آپکے ووٹ کیساتھ کھلواڑ ہورہا ہے، خاموش تماشائی مت بنیے، اسکی مخالفت کیجیے۔ اسلام ٹائمز۔ نریندر مودی تو جمہوریت کا جنازہ نکال ہی رہے ہیں، لیکن اگر کوئی ان کے اس گناہ میں سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر کام کر رہا ہے، تو وہ الیکشن کمیشن ہے۔ یہ تلخ تبصرہ کانگریس نے آج اس خبر کے منظرعام پر آنے کے بعد کیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ریاستی الیکشن کمیشن کے افسران کو انتخابی عمل مکمل ہونے کے 45 دنوں بعد اس سے جڑی تصویریں اور ویڈیوز ضائع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کانگریس نے اس تعلق سے ایک ویڈیو اپنے آفیشیل ایکس ہینڈل پر پوسٹ کی ہے، جس میں پارٹی ترجمان سپریا شرینیت نے الیکشن کمیشن کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی ہدف تنقید بنایا ہے۔ سپریا کہتی ہیں کہ نریندر مودی نے اس ملک کی جمہوریت کو تباہ کرنے میں اور لوگوں کی طاقت چھیننے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے اور ان کا یہ کام سب سے مضبوطی کے ساتھ الیکشن کمیشن کر رہا ہے۔
سپریا شرینیت کا کہنا ہے کہ اب الیکشن کمیشن نے ریاستی الیکشن کمیشن افسران کو لکھ کر ہدایت دی ہے کہ انتخابات سے منسلک ویڈیوز اور تصویریں صرف 45 دنوں تک ہی رکھی جائیں گے۔ اس درمیان اگر کوئی عرضی داخل نہ ہوئی تو ویڈیوز اور تصویروں کو 45 دن بعد ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔ پہلے یہ ویڈیوز اور تصویریں ایک سال تک رکھی جاتی تھیں تاکہ جمہوری نظام میں کبھی بھی جانچ ہو سکے۔ سپریا کہتی ہیں کہ آپ کو یاد ہی ہوگا کس طرح گزشتہ سال دسمبر میں محض 24 گھنٹے میں آناً فاناً نئے اصول بنا کر انتخابی دستاویز اور ویڈیو ریکارڈنگ بھی عوام کی رسائی سے باہر کی گئی تھی، اب نئے اصول کے تحت تو انھیں ریکارڈ سے ہی مٹا دیا جائے گا۔‘‘
الیکشن کمیشن کی ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے سپریا شرینیت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کام صرف غیر جانبدارانہ انتخاب کرانا ہی نہیں ہے، بلکہ لوگوں کا الیکشن سسٹم میں بھروسہ بنائے رکھنا بھی ہے۔ ان دونوں کاموں کو الیکشن کمیشن فراموش کر چکا ہے۔ الیکشن کمیشن کے تازہ فیصلے کو پوری طرح سے غلط ٹھہراتے ہوئے کانگریس ترجمان نے کہا کہ یہ بالکل غیر جمہوری قدم ہے، اسے ہر حال میں واپس لینا چاہیئے۔ اپنے ویڈیو پیغام میں وہ عوام کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہتی ہیں کہ میڈیا کو تو مودی کا نام سن کر سانپ سونگھ جائے گا، لیکن غیر جانبدارانہ انتخاب اور آپ کے ووٹ کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے، خاموش تماشائی مت بنیے، اس کی مخالفت کیجیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی(BJP) کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
مزیدپڑھیں:انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔