اسلام آباد:

پاکستان اسپورٹس بورڈ کے الیکشن کمیشن نے چیس فیڈریشن آف پاکستان میں سینئر نائب صدر کے عہدے کے لیے انتخاب کے شیڈول کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ 

ترجمان پی ایس بی کے مطابق یہ انتخابی عمل پاکستان اسپورٹس بورڈ کے 2022 کے آئین، قومی اسپورٹس پالیسی 2005، اسپورٹس الیکشن ریگولیشنز 2024 اور چیس فیڈریشن آف پاکستان کے اپنے آئین کے مطابق منعقد کیا جائے گا۔

پی ایس بی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق 26 جون 2025 تک صوبائی ایسوسی ایشنز، وابستہ ادارے اور متعلقہ تنظیمیں اپنے ووٹرز اور امیدواروں کی نامزدگیاں الیکشن کمیشن کو جمع کروا سکیں گی۔ 

27 جون کو جمع شدہ کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد عبوری ووٹر لسٹ اور امیدواروں کی ابتدائی فہرست جاری کی جائے گی۔ اس پر اعتراضات جمع کروانے کی آخری تاریخ 30 جون مقرر کی گئی ہے، جبکہ 2 جولائی کو ان اعتراضات پر فیصلے کے بعد حتمی ووٹر لسٹ اور امیدواروں کی تصدیق شدہ فہرست جاری کی جائے گی۔

شیڈول کے مطابق انتخابی عمل کا اہم ترین مرحلہ پولنگ 7 جولائی 2025 کو صبح 11 بجے پاکستان اسپورٹس بورڈ کے کمیٹی روم اسلام آباد میں منعقد ہوگا جس کے فوراً بعد نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ تمام کاغذات، ووٹر لسٹیں اور اعتراضات براہ راست "الیکشن کمیشن، پاکستان اسپورٹس بورڈ، اسلام آباد" کے پتے پر جمع کروائے جائیں۔ 

الیکشن کمیشن کی سربراہی وسیم ماجد ملک کر رہے ہیں، جبکہ بابر سہیل اور ذوہیب حسن گوندل بطور ممبران خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل شفاف، منصفانہ اور آئینی دائرہ کار میں مکمل کرنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں سے تعاون کی اپیل کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان اسپورٹس بورڈ الیکشن کمیشن کے مطابق

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری