Express News:
2026-07-24@07:54:03 GMT

گرمیوں میں کافی پینا، چند غلط فہمیوں کا ازالہ

اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT

گرمیوں میں کافی پینے سے متعلق کئی عام غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، جن میں اکثر افراد یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جسم کو پانی کی کمی یا گرمی کے مسائل کا باعث بنتی ہے۔

تاہم جدید تحقیق اور ماہرین کی رائے کچھ مختلف ہے۔ آئیے ان غلط فہمیوں کا تجزیہ کرتے ہیں اور ان کی وضاحت پیش کرتے ہیں:

غلط فہمی 1: کافی گرمی میں جسم کو ڈی ہائیڈریٹ کرتی ہے

اگرچہ کافی میں کیفین ہوتی ہے جو پیشاب آور (diuretic) ہے مگر معمول کی مقدار میں (3 سے 4 کپ روزانہ) یہ ڈی ہائیڈریشن کا سبب نہیں بنتی۔

غلط فہمی 2: گرمی میں گرم کافی پینا خطرناک ہے

حقیقت یہ ہے کہ کچھ ماہرین کے مطابق گرم مشروبات جیسے کافی جسم کو اصل میں اندر سے ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتے ہیں کیونکہ یہ پسینے کو بڑھاتے ہیں، جو جسم کے درجہ حرارت کو نیچے لاتا ہے۔ البتہ اگر اردگرد کا ماحول حبس والا ہو تو یہ عمل کم مؤثر ہو سکتا ہے۔

غلط فہمی 3: کافی صرف سرد موسم کی چیز ہے

کافی نہ صرف گرم بلکہ آئسڈ کافی کی شکل میں گرمیوں میں بھی لطف اندوزی کا ذریعہ ہے۔ آئسڈ یا کولڈ کافی گرمی کے دنوں میں تازگی بخش سکتی ہے اور توانائی بھی مہیا کرتی ہے۔

غلط فہمی 4: کافی گرمی میں بلڈ پریشر یا دل پر برا اثر ڈالتی ہے

اگر آپ کو ہائی بلڈ پریشر یا دل کی کوئی خاص بیماری ہے، تب تو کیفین کے اثرات پر توجہ دینا ضروری ہے۔ مگر صحت مند افراد میں، روزانہ 2 سے 3 کپ کافی عمومی طور پر محفوظ سمجھی جاتی ہے چاہے سردی ہو یا گرمی۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: غلط فہمی

پڑھیں:

جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا

جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔

یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟

جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔

کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟

یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔

‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news انسانی فریج جاپان گرمی

متعلقہ مضامین

  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا