Express News:
2026-06-03@00:59:14 GMT

گرمیوں میں کافی پینا، چند غلط فہمیوں کا ازالہ

اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT

گرمیوں میں کافی پینے سے متعلق کئی عام غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، جن میں اکثر افراد یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جسم کو پانی کی کمی یا گرمی کے مسائل کا باعث بنتی ہے۔

تاہم جدید تحقیق اور ماہرین کی رائے کچھ مختلف ہے۔ آئیے ان غلط فہمیوں کا تجزیہ کرتے ہیں اور ان کی وضاحت پیش کرتے ہیں:

غلط فہمی 1: کافی گرمی میں جسم کو ڈی ہائیڈریٹ کرتی ہے

اگرچہ کافی میں کیفین ہوتی ہے جو پیشاب آور (diuretic) ہے مگر معمول کی مقدار میں (3 سے 4 کپ روزانہ) یہ ڈی ہائیڈریشن کا سبب نہیں بنتی۔

غلط فہمی 2: گرمی میں گرم کافی پینا خطرناک ہے

حقیقت یہ ہے کہ کچھ ماہرین کے مطابق گرم مشروبات جیسے کافی جسم کو اصل میں اندر سے ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتے ہیں کیونکہ یہ پسینے کو بڑھاتے ہیں، جو جسم کے درجہ حرارت کو نیچے لاتا ہے۔ البتہ اگر اردگرد کا ماحول حبس والا ہو تو یہ عمل کم مؤثر ہو سکتا ہے۔

غلط فہمی 3: کافی صرف سرد موسم کی چیز ہے

کافی نہ صرف گرم بلکہ آئسڈ کافی کی شکل میں گرمیوں میں بھی لطف اندوزی کا ذریعہ ہے۔ آئسڈ یا کولڈ کافی گرمی کے دنوں میں تازگی بخش سکتی ہے اور توانائی بھی مہیا کرتی ہے۔

غلط فہمی 4: کافی گرمی میں بلڈ پریشر یا دل پر برا اثر ڈالتی ہے

اگر آپ کو ہائی بلڈ پریشر یا دل کی کوئی خاص بیماری ہے، تب تو کیفین کے اثرات پر توجہ دینا ضروری ہے۔ مگر صحت مند افراد میں، روزانہ 2 سے 3 کپ کافی عمومی طور پر محفوظ سمجھی جاتی ہے چاہے سردی ہو یا گرمی۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: غلط فہمی

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان