data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکی ایوان نمائندگان (کانگریس) کے عملے کو اب سرکاری ڈیوائسز پر واٹس ایپ کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ پابندی کانگریس کے چیف ایڈمنسٹریٹیو آفیسر (سی اے او) کی جانب سے 23 جون کو جاری ہدایات کے تحت عائد کی گئی ہے، جس میں کہا گیا کہ واٹس ایپ سائبر سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

Axios کی رپورٹ کے مطابق سی اے او کی ای میل میں واضح کیا گیا ہے کہ ایوان نمائندگان کے لیے مقرر کردہ سائبر سیکیورٹی آفس نے واٹس ایپ کو نا قابل قبول قرار دیا ہے، کیونکہ یہ ایپ صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے واضح مؤقف نہیں رکھتی اور اس میں اسٹور کیے گئے ڈیٹا کی انکرپشن بھی دستیاب نہیں۔ اس کے باعث یہ ایپ سرکاری معلومات اور نظام کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

پابندی کے تحت واٹس ایپ کو نہ صرف موبائل ڈیوائسز پر، بلکہ ڈیسک ٹاپ اور ویب ورژن میں بھی استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ متبادل کے طور پر مائیکروسافٹ ٹیمز، سگنل، آئی میسج اور فیس ٹائم جیسی ایپس کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔

دوسری جانب واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا نے اس اقدام کی سختی سے مخالفت کی ہے۔ میٹا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ بائی ڈیفالٹ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فراہم کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ پیغامات صرف بھیجنے اور موصول کرنے والے افراد ہی پڑھ سکتے ہیں، حتیٰ کہ کمپنی کو بھی ان تک رسائی حاصل نہیں۔

میٹا نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ سی اے او کی جانب سے متبادل کے طور پر تجویز کی گئی ایپس میں بھی ایسی اعلیٰ سطح کی انکرپشن موجود نہیں، اس لیے واٹس ایپ کو نشانہ بنانا غیر منصفانہ اور بے بنیاد ہے۔

واضح رہے کہ کانگریس کے عملے کے لیے اس سے قبل بھی چند دیگر ایپس پر پابندی عائد کی جا چکی ہے، جن میں ٹک ٹاک، چیٹ جی پی ٹی، ڈیپ سیک اور مائیکروسافٹ کو پائلٹ شامل ہیں۔ ان پابندیوں کا مقصد سرکاری مواصلاتی نظام کو کسی بھی ممکنہ ڈیجیٹل خطرے سے محفوظ بنانا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: واٹس ایپ کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف