جنوبی وزیرستان: سیکیورٹی فورسز نے بھارتی حمایت یافتہ 11 دہشتگرد ہلاک کردیے، میجر سمیت 2 جوان شہید
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
سیکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان میں ایک آپریشن کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 11 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں میجر سمیت 2 جوان بھی شہید ہوگئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر جنوبی وزیرستان کے علاقے سراروغہ میں آپریشن کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز کا دہشتگردوں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوگیا، اس دوران 11 دہشتگرد ہلاک اور 7 زخمی ہوگئے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ دہشتگردوں کی جانب سے فائرنگ کے نتیجےمیں پاک فوج کے آفیسر میجر سید معیز عباس شاہ اور لانس نائیک جبران اللہ نے جام شہادت نوش کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق میجر معیز شہید کو خوارج کے خلاف کیے گئے متعدد آپریشنز میں اپنی جرات اور جرات مندانہ کارروائیوں کے لیے جانا جاتا تھا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد کو ہلاک کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن کیا جا رہا ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں اور ہمارے بہادر جوانوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایس پی آر آپریشن بھارتی حمایت یافتہ جنوبی وزیرستان دہشتگرد میجر شہید وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر بھارتی حمایت یافتہ جنوبی وزیرستان دہشتگرد میجر شہید وی نیوز بھارتی حمایت یافتہ جنوبی وزیرستان سیکیورٹی فورسز ا ئی ایس پی ا ر کے لیے فوج کے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔