Islam Times:
2026-06-03@08:23:14 GMT

ریسلر ٹرمپ کی شکست

اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT

ریسلر ٹرمپ کی شکست

اسلام ٹائمز: صدر ٹرمپ کو ایران پر حملہ کرنے کی اتنی جلدی تھی کہ انہوں نے اپنی کانگریس سے بھی اس کی منظوری نہیں لی۔ اس جنگ نے ٹرمپ کے چہرے پر جو اثرات چھوڑے ہیں ان کی وجہ سے وہ اب امریکی عوام کو منھ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔ کل تک جو میزائل ایران کی زمین سے پرواز کر رہے تھے آج وہ ٹرمپ کے چہرے سے ہوائیاں بن کر اڑ رہے ہیں۔ تحریر: سید تنویر حیدر

اسرائیل نے ایران کے ساتھ جو براہ راست جنگ چھیڑی تھی، امریکہ نے اس میں اپنا حصہ ڈال کر یہ خیال کیا تھا کہ اس جنگ میں وہ بزعم خود فتح یاب ہو کر اپنی کامیابی کی ایک نئی تاریخ رقم کرے گا لیکن وقت کے ہاتھ میں جو قلم تھا اس نے ٹرمپ کی خواہشات کے برعکس ایسی تاریخ لکھی ہے جس کا ہر باب اپنے دامن میں ٹرمپ کی رسوائی کی ایک تاریخ لیے ہوئے ہے۔ 2006ء میں جب اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا تھا تو اس وقت بھی امریکہ کی سیکرٹری آف فارن افئرز، ”کنڈولیزا رائس“ امریکہ کا ترتیب دیا ہوا نقشہ لیے مڈل ایسٹ میں گھوم رہی تھیں لیکن ”حزب اللہ“ نے پھر اس نقشے کے کئی ٹکڑے کر دیئے۔

آج بھی اپنی میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں ”مخبوط الحواس“ قرار دیے جانے والے ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ذہن میں ایران کی بربادی کا جو خبط لیے ہوئے تھے اسے ایران کے میزائیلوں کی دھمک نے ایسا ٹھکانے لگایا ہے کہ اب وہ ایران کا شکریہ ادا کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ایران جب ایک طرف اپنی ایٹمی تنصیبات پر امریکہ کے بے مقصد گرائے گئے میزائلوں کا حساب برابر کر رہا تھا تو اس وقت دوسری جانب ٹرمپ دن میں آسمان پر نظر آنے والے تاروں کی گنتی کر رہے تھے۔ اس صورت حال نے امریکی صدر کو ایسا چکر دیا ہے کہ کل تک وہ جو جنگ کے راستے پر گامزن تھا، آج اس کی سوئی امن کی راہ پر آ کر اٹک گئی ہے۔

صدر ٹرمپ کو ایران پر حملہ کرنے کی اتنی جلدی تھی کہ انہوں نے اپنی کانگریس سے بھی اس کی منظوری نہیں لی۔ اس جنگ نے ٹرمپ کے چہرے پر جو اثرات چھوڑے ہیں ان کی وجہ سے وہ اب امریکی عوام کو منھ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔ کل تک جو میزائل ایران کی زمین سے پرواز کر رہے تھے آج وہ ٹرمپ کے چہرے سے ہوائیاں بن کر اڑ رہے ہیں۔ یہ جنگ تو شاید عارضی طور پر ختم ہو جائے لیکن اس کے بعد امریکی عوام ٹرمپ کے مواخذے کی جو جنگ شروع کریں گے وہ اپنے انجام تک پہنچے گی۔ اس جنگ نے ٹرمپ کے اسرائیل سے عشق کے اس جذبے کو نقطہء انجماد تک پہنچا دیا ہے جو وہ اپنے دل ناتواں میں رکھتے تھے۔

ایران کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف اپنی لڑی جانے والی اس ”فائٹ“ میں ٹرمپ کو ”ریسلنگ رنگ“ سے باہر پھینک دے۔ ٹرمپ جو کسی دور میں ایک ریسلر کی حیثیت سے ریسلنگ کے قواعد و ضوابط کو پس پشت ڈال کر اپنے حریف کا سر مونڈنےکے عادی تھے، انہیں خبر ہونی چاہیئے کہ اب انہوں نے جس جنگ میں قدم رکھا ہے وہ کھیل کا میدان نہیں ہے بلکہ یہ خیبر کی طرز کا ایسا میدان ہے جس میں ان کا مقابلہ خیبر شکن کے وارثین سے ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ٹرمپ کے چہرے ایران کی

پڑھیں:

گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ

​حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب پولیس کی جانب سے پیش کردہ ایک رپورٹ نے معاشرے میں کھلبلی مچا دی ہے۔ عدالتِ عالیہ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2021 سے اب تک درج ہونے والے گمشدہ خواتین و لڑکیوں کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے، جن میں سے اکثریت کے بارے میں پولیس کا مؤقف ہے کہ ان لڑکیوں نے اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی۔ یہ خبر صرف عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں، بلکہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں موجود گہرے شگافوں کی عکاس ہے۔

رپورٹ کے مطابق 105,244 کیسز رجسٹر ہوئے، جن میں سے 103,351 حل کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار بیک وقت اطمینان اور تشویش کا باعث ہیں۔ اطمینان اس لیے کہ بڑی تعداد میں کیسز حل ہوئے، مگر تشویش اس بات پر کہ آخر اتنی بڑی تعداد میں لڑکیاں اپنے گھر چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟

جب معاشرے میں 80 فیصد گمشدگیوں کی وجہ اپنی مرضی سے شادی قرار دی جاتی ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گھر کے اندر موجود حالات اور سماجی دباؤ اس قدر شدید ہو چکے ہیں کہ نوجوان لڑکیاں گھر سے فرار کو ہی اپنی نجات سمجھتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں شادی کے معاملے پر لڑکی کی مرضی کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ والدین کی خواہشات اور خاندانی وقار کے نام پر لڑکیوں کے جذبات کو کچلا جاتا ہے۔ جب ایک لڑکی کو لگتا ہے کہ اس کی بات سنی نہیں جائے گی، تو وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ کیا شادی کرنا غلط ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ لڑکیوں کو ان کے حقوق، تعلیم اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی فراہم کر رہا ہے؟ جب یہ آزادی سلب کر لی جاتی ہے تو وہ گمشدگی کی رپورٹوں کے ذریعے منظر عام پر آتی ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس معاملے پر جس برہمی کا اظہار کیا، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پولیس کا کردار محض کیس بند کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے درست کہا کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جاتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔

اکثر کیسز میں پولیس کا کردار صرف تب فعال ہوتا ہے جب عدالت سے حکم جاری ہو۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جب تک کوئی اغوا کا ایف آئی آر درج نہ ہو، تب تک پولیس اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔

اس سارے معاملے میں ایک پہلو والدین کا بھی ہے۔ اکثر والدین اپنی بیٹیوں پر اس قدر پابندیاں عائد کر دیتے ہیں کہ وہ نفسیاتی طور پر ٹوٹ جاتی ہیں۔ خاندانوں کے اندر مکالمے کی کمی اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد اس بحران کو جنم دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی لڑکی کا گھر چھوڑنا محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جو گھر کے چار دیواری کے اندر شروع ہوتا ہے۔

زیادہ تر اغوا کی ایف آئی آر درج کرانا اکثر اوقات خاندانی عزت بچانے کا ایک طریقہ بھی ہوتا ہے۔ جب والدین اپنی بیٹی کے پسند کی شادی کو تسلیم نہیں کر پاتے، تو وہ اسے اغوا کا نام دے دیتے ہیں۔ اس سے پولیس کا وقت ضائع ہوتا ہے اور حقیقی اغوا کے کیسز پر سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ عدالتی عمل کے دوران جب یہ سچ سامنے آتا ہے کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، تو وہ کیس ختم کر دیا جاتا ہے، لیکن اس دوران جو سماجی و قانونی کشمکش پیدا ہوتی ہے، وہ خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے تقسیم کر دیتی ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف پولیس کی سختی یا عدالت کے احکامات میں نہیں، بلکہ ہمیں ایک وسیع تر سماجی بحث کی ضرورت ہے۔

خاندانوں میں مکالمہ: والدین کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم کرنا چاہیے۔ان کی پسند و ناپسند کو اہمیت دینی چاہیے۔

​نفسیاتی مشاورت: تعلیمی اداروں اور کمیونٹی مراکز میں کونسلنگ کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ نوجوان اپنے جذبات کا صحیح اظہار کر سکیں۔

​پولیس کا پیشہ ورانہ رویہ: پولیس کو گمشدگی کے کیسز میں زیادہ حساسیت اور پیشہ ورانہ مہارت دکھانے کی ضرورت ہے۔

قانونی شعور: لڑکیوں کو ان کے قانونی حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے تاکہ وہ کسی بھی غیر قانونی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔

​لاہور ہائی کورٹ کے اس کیس نے ہمیں ایک آئینہ دکھایا ہے۔ اگر ہم اس آئینے میں دیکھ کر اپنی کوتاہیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

80 فیصد لڑکیوں کا اپنی مرضی سے شادی کرنا ہمارے نظام کی ناکامی نہیں، بلکہ ہمارے سماجی رویوں کی ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی اقدار کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں خواتین کی آواز، ان کی پسند اور ان کا وقار محفوظ ہو۔ عدالتی کارروائی اپنی جگہ، لیکن اصل تبدیلی ہمارے گھروں سے شروع ہوگی۔

​یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے جو قانون کے دائرے سے نکل کر ہمارے دلوں اور ذہنوں تک جاتا ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم لڑکیوں کو بوجھ نہیں، بلکہ ایک فرد سمجھیں جس کی اپنی زندگیاں اور خواب ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سیدہ سفینہ ملک

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا ایران سے تحریری وعدے کا مطالبہ!
  • اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا