کل سے سندھ کے کئی اضلاع میں بارشوں کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
---فائل فوٹو
کل سے سندھ کے کئی اضلاع میں بارشوں کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں بھی 27 جون سے مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مون سون ہوائیں ملک کے شمالی اور وسطی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں، آئندہ چند روز میں مون سون ہواؤں میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔
اسلام آباد و راولپنڈی میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا۔
مغربی ہواؤں کا سلسلہ بھی ملک کے شمالی علاقوں میں داخل ہو رہا ہے، کل سے مغربی ہواؤں کا سسٹم مذید فعال ہو جائے گا۔
کل تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، بدین اور دادو میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
27 جون کو سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، خیرپور، گھوٹکی میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
ادھر کراچی میں آئندہ تین روز مطلع جزوی ابر آلود اور موسم مرطوب رہنے کا امکان ہے۔
کل شہر میں کہیں کہیں ہلکی بارش اور بوندا باندی کا امکان ہے جبکہ جمعے کی شام کہیں کہیں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے
کراچی میں ہفتے سے اتوار کو آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، آئندہ دو روز درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔