گورنر خیبر پختونخواہ کا اسلام آباد کے نجی مال میں تین روزہ ٹریول ایکسپو کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 28 جون2025ء) گورنر خیبر پختونخواہ فیصل کریم کنڈی نے اسلام آباد کے نجی مال میں تین روزہ ٹریول ایکسپو کا افتتاح کردیا۔ اسلام اباد کے نجی مال میں تین روزہ گلوبل ٹورازم ایکسپو کا انعقاد کیا گیا جس میں سیاحتی کمپنیوں اور سیاحت کے شعبے سے منسلک افراد نے شرکت کی۔ گورنر خیبر پختونخواہ فیصل کریم کنڈی نے تقریب کا افتتاح کیا۔
(جاری ہے)
سینٹورس مال کے سی ای او سردار یاسر الیاس بھی انکے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی ہے کہا کہ پاکستان سیاحت کے شعبہ میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے،ہمارے ملک میں غیر ملکی سیاحوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹورازم کو فروغ مل رہا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان ایک پازیٹو کی طرف جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اندھیرے سے اجالے کی طرف جارہا ہے ترقی کے اس سفر میں ہم سب نے مل کر کام کرنا ہوگا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کہ پاکستان
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔