وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کی زیر صدارت صوبائی لیبر سیکریٹریز کا اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 جون2025ء) وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کی زیر صدارت صوبائی لیبر سیکریٹریز کا اجلاس ہوا، اجلاس میں سیکریٹری ندیم اسلم چوہدری بھی ہمراہ تھے۔ جی ایس پی پلس اسٹیٹس برقرار رکھنے کے لیے لیبر اصلاحات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
(جاری ہے)
چوہدری سالک حسین نے بچوں سے مشقت کے خلاف سروے، خواتین لیبر انسپکٹرز کی بھرتی، اور ضلعی نگرانی کمیٹیوں کو فعال بنانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے حقوق پر عملی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ یورپی منڈی تک پاکستان کی ترجیحی رسائی قائم رہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ چاروں صوبوں نے خطرناک مشقت کے لیے عمر 18 سال مقرر کر دی ہے۔ وفاقی وزیر نے صوبوں کو ایک ہفتے میں پیش رفت رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔