ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کےلیے اہم مشورہ دے دیا۔

عباس عراقچی نے مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی مذاکرات میں سنجیدہ ہیں تو انہیں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے لیے اپنا لہجہ بدلنا ہوگا۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں عراقچی نے واضح کیا کہ ’’صدر ٹرمپ اگر معاہدہ چاہتے ہیں تو انہیں سپریم لیڈر کے خلاف غیر مہذب لہجہ ترک کرنا ہوگا۔‘‘

انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکی صدر کو ایران کے قائد کے چاہنے والوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا بند کرنا چاہیے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں قومی موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا، ’’ہم ایک قوم کے طور پر سادگی اور سچائی پر یقین رکھते ہیں۔ ہم اپنی قدر جانتے ہیں اور اپنی آزادی کو عزیز رکھتے ہیں۔ ہم کبھی کسی کو اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

عراقچی نے اپنے بیان کے اختتام پر ایک چبھتا ہوا تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’ہمارے میزائلوں سے بچنے کےلیے اسرائیل کے پاس امریکا جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔‘‘

سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ بیان ایران کی طرف سے امریکا کو ایک واضح پیغام ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر آنے کےلیے احترام آمیز رویہ اپنانے کی توقع رکھتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عراقچی نے

پڑھیں:

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم