سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے کی سماعت کےلیے پانچ بینچز تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے کی سماعت کےلیے پانچ بینچز تشکیل دے دیے گئے ہیں۔ چار بینچ اسلام آباد جبکہ ایک بینچ لاہور رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کرے گا۔
اطلاعات کے مطابق اسلام آباد رجسٹری میں بینچ ون چیف جسٹس پاکستان یحییٰ خان آفریدی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ہوگا۔
بینچ ٹو جسٹس منیب اختر اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل ہے۔ تیسرا بینچ جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل ہوگا۔
بینچ چار جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس ملک شہزاد پر مشتمل ہوگا۔
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس شاہد بلال اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل بنچ کیسز سنے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اور جسٹس
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔