مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ، کچھ دیر میں سنایا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
ا سلام آ باد (ڈیلی پاکستان آن لائن) مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ ہوگیا، سپریم کورٹ آئینی بینچ کچھ دیر میں مختصر فیصلہ سنائے گا۔
ڈان کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
آئینی بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس عقیل عباسی، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔
کیس کے آغاز میں ہی جسٹس صلاح الدین پنوار نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا جس کے بعد مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں 11 رکنی بینچ ٹوٹ گیا۔
جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ سنی اتحاد کونسل کے وکیل حامد خان نے گزشتہ روز بینچ پر اعتراض اٹھایا تھا، حامد خان نے ان ججز کی بینچ میں شمولیت پر اعتراض اٹھایا جو 26ویں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ آئے، حامد خان کے اس اعتراض کے باعث بہتر سمجھتا ہوں خود کو بینچ سے الگ کر لوں۔
جسٹس صلاح الدین پنور نے کہا کہ جن ججز پر 26ویں آئینی ترمیم کے بعد بنچ میں شامل ہونے پر اعتراض کیا گیا ان میں میں بھی شامل ہوں، عوام کا عدلیہ میں اعتماد لازم ہے،ضروری ہے کسی فریق کا ببچ پر اعتراض نہ ہو۔
وکیل حامد خان نے کہا کہ میں جسٹس صلاح الدین پنہور کے اس اقدام کو سراہتا ہوں جس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ یہ کوئی سراہنے والا معاملہ نہیں ہے، یہ آپ ہی کے کنڈکٹ کا نتیجہ ہے، ہم نے آپ کو عزت دی، اس لیے آپ کو سن رہے ہیں، ورنہ ہم آپ کو سننے کے مجاز نہ تھے، آپ کو موقع دیا، آپ اس کا ناجائز فائدہ مت اٹھائیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس دس منٹ ہیں بات کرنی ہے تو کریں، ایسا نہیں ہے کہ ہمیں سختی کرنا نہیں آتی جس پر حامد خان نے کہا کہ آپ غصے میں لگ رہے ہیں، ابھی کیس مت سنیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ میں جانتا ہوں کیسے کام کرنا ہے،اپ اپنی الفاظوں کا خیال رکھیں، آپ نے بات نہیں کرنی تو بیٹھ جائیں، آپ جو کر رہے ہیں وہ اچھے وکیل والی بات نہیں۔
حامد خان نے کہا کہ میری بات سن لیجیے جوڈیشل کمیشن بینچ بناتا ہے جس پر جمال مندوخیل نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کس قانون کے تحت بینچ بناتا ہے، حامد خان نے جواب دیا کہ 26ویں ترمیم کے تحت آرٹیکل 191 اے کے تحت بنتے ہیں بنچز۔
جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ آپ 26ویں ترمیم کے مخالف ہیں تو اس پر کیسے انحصار کر رہے ہیں، حامد خان نے جواب دیا کہ اسی لیے کہا تھا 26ویں ترمیم پر پہلے فیصلہ کر دیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون کا حوالہ دیں گے تو آپ کو کل تک سنیں گے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کیا ترمیم سپریم کورٹ نے کی ہے، آپ سینیٹر ہیں کیا آپ نے ترمیم کے خلاف ووٹ دیا، حامد خان نے جواب دیا کہ میں نے اس کے خلاف ووٹ دیا ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ سب نے بائیکاٹ کیا تھا، جب تک وہ ہے یا اسے قبول کریں یا آپ کہیں یہ سسٹم مجھے منظور نہیں ہے وکالت چھوڑ دیں۔
حامد خان کا کہنا تھا کہ نظر ثانی وہی کرسکتا ہے جس نے نظراول کی ہو، جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ ہم نے آپ کا نکتہ نوٹ کر لیا آگے بڑھیں۔
جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ آزاد امیدواروں کو 3 دن کے اندر کسی بھی جماعت میں شامل ہونا ہوتا ہے، کیا نوٹیفکیشن کے بعد الیکشن کمیشن، ہائیکورٹ یا ہم سے کوئی درخواست کی کہ ہمیں سیٹ دیں؟ معذرت کیساتھ کس طرح سیاسی جماعت میں شمولیت کا فیصلہ کیا گیا، اس طرح سیاسی جماعت میں شمولیت بارے فیصلے کی تحقیقات کرنی چاہیے، اس نقصان کا ملبہ اب عدالت پر ڈالا جارہا ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس میں کہا کہ 13 کے 13 ججز نے متفقہ کہا تھا کہ مخصوص نشستوں پر سنی اتحاد کونسل کا حق نہیں بنتا، آپ اس بات کو خود بھی تسلیم کررہے ہیں، صاف بات ہے کہ قوم کو گمراہ کیا جارہا ہے، درست حقائق سامنے نہیں لائے جارہے۔
بعد ازاں، عدالت نے مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
یاد رہے کہ 6 مئی 2025 سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظر ثانی درخواستوں کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کردیے۔
تاہم، بینچ کے ارکان جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نے اختلاف کرتے ہوئے نظر ثانی درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیا تھا۔
خیال رہے کہ 12 جولائی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حقدار قرار دے دیا تھا۔
کیس کا پس منظر:6 مئی کو سپریم کورٹ نے 14 مارچ کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے ساتھ ساتھ یکم مارچ کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سنی اتحاد کونسل کو خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں سے محروم کرنے کے فیصلے کو معطل کر تے ہوئے معاملہ لارجر بینچ کو ارسال کردیا تھا۔
3 مئی کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر ہوگیا تھا۔
4 مارچ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی درخواستیں مسترد کردی تھیں۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے 28 فروری کو درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 53 کی شق 6، الیکشن ایکٹ کےسیکشن 104 کےتحت فیصلہ سناتے ہوئے مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی سنی اتحاد کونسل کی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔
چار ایک کی اکثریت سے جاری 22 صفحات پر مشتمل فیصلے میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ نہیں کی جا سکتی، قانون کی خلاف ورزی اور پارٹی فہرست کی ابتدا میں فراہمی میں ناکامی کے باعث سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں، سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کے لیے لسٹ جمع نہیں کرائی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ یہ مخصوص نشستیں خالی نہیں رہیں گی، یہ مخصوص متناسب نمائندگی کے طریقے سے سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں گی۔
الیکشن کمیشن نے تمام خالی مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو الاٹ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) ، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن (جے یو آئی ف) کو دینے کی درخواست منظور کی تھی۔
چیف الیکشن کمشنر، ممبر سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے اکثریتی فیصلے کی حمایت کی جب کہ ممبر پنجاب بابر بھروانہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔
بعد ازاں 4 مارچ کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے مخصوص نشستیں الاٹ نہ کرنے کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کو ’غیر آئینی‘ قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔
محرم الحرام میں ملک بھر میں فوج تعینات کرنے کا فیصلہ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: مخصوص نشستوں کے فیصلے جسٹس جمال مندوخیل نے ثانی درخواستوں پر مندوخیل نے کہا کہ جسٹس صلاح الدین سنی اتحاد کونسل مندوخیل نے کہ خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن فیصلہ محفوظ 26ویں ترمیم سپریم کورٹ ف پاکستان کرتے ہوئے کا فیصلہ ترمیم کے کو مخصوص فیصلے کی دیا تھا رہے ہیں کیا تھا تھا کہ کے لیے کے بعد
پڑھیں:
گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی عمدہ کارکردگی کی بدولت پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم نے سری لنکا کو پہلے ایک روزہ میچ میں 5 وکٹوں سے شکست دے کر 3 میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ویمنز ٹیم کا سری لنکا ٹور: ٹی20 سیریز نئے مقام پر منتقل، کس کا پلڑا بھاری؟
آئی سی سی ویمنز چیمپیئن شپ 2025-29 کے تحت کھیلے گئے میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تاہم پاکستانی بولرز کی نپی تلی بولنگ کے باعث مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 210 رنز ہی بنا سکی۔
سری لنکا کی جانب سے اوپنرز وشمی گوناتنے اور کپتان چماری اتھاپتھو نے ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کیا اور ابتدائی 5 اوورز میں بغیر کسی نقصان کے 31 رنز بنائے۔ دونوں نے پہلی وکٹ کے لیے نصف سینچری شراکت بھی قائم کی جو سری لنکا کی جانب سے ون ڈے کرکٹ میں کسی بھی اوپننگ جوڑی کی 5ویں ففٹی پارٹنرشپ تھی۔
پاکستانی اسپنرز کے اٹیک پر آنے کے بعد سری لنکن بیٹنگ کی رفتار سست پڑ گئی۔ نشرہ سندھو نے پہلے وشمی گوناتنے کو آؤٹ کیا جبکہ بعد ازاں کپتان چماری اتھاپتھو کو بھی بولڈ کر دیا۔
اتھاپتھو اور حسینی پریرا نے دوسری وکٹ کے لیے 53 رنز جوڑے تاہم اس کے بعد پاکستانی بولرز نے میچ پر گرفت مضبوط کر لی۔ نیلکشیکا سلوا اور کویشا دلہاری کے درمیان 5ویں وکٹ کے لیے 42 رنز کی شراکت کے علاوہ کوئی بڑی پارٹنرشپ نہ بن سکی جبکہ آخری 7 اوورز میں سری لنکا نے 32 رنز کے عوض 5 وکٹیں گنوا دیں۔
مزید پڑھیے: فاطمہ ثنا نے تاریخ رقم کر دی، ویمنز دی ہنڈرڈ کھیلنے والی پہلی پاکستانی کرکٹر بن گئیں
پاکستان کی جانب سے نشرہ سندھو نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 42 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔
گل فیروزہ کی مسلسل چوتھی نصف سینچری211 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے پراعتماد آغاز کیا۔ اوپنر گل فیروزہ نے ایک مرتبہ پھر عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل چوتھی ون ڈے نصف سینچری اسکور کی۔
انہوں نے ابتدائی پاور پلے میں جارحانہ انداز اپنایا اور صدف شمس کے ساتھ پہلی وکٹ کے لیے 58 رنز کی شراکت قائم کی۔
Pakistan women beat Sri Lanka women by 5 wickets in the first One-Day International of the three-match series in Hambantota today.@TheRealPCBMedia @TheRealPCB #News #RadioPakistan https://t.co/5cesGghrAK
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) July 23, 2026
بعد ازاں گل فیروزہ اور سدرہ امین نے دوسری وکٹ کے لیے 90 رنز کا اہم اضافہ کیا جس نے پاکستان کی فتح کی بنیاد رکھ دی۔
مزید پڑھیں: ویمنز ورلڈکپ فوٹو شوٹ میں فاطمہ ثنا اور جے شاہ کا مصافحہ توجہ کا مرکز بن گیا
گل فیروزہ نے 77 گیندوں پر 78 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جبکہ صدف امین نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 94 گیندوں پر 57 رنز بنائے۔
پاکستان نے مطلوبہ ہدف 45 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا اور یوں سیریز کا آغاز کامیابی سے کیا۔
آئی سی سی ویمنز چیمپئن شپ میں دوسری پوزیشنیہ پاکستان ویمنز ٹیم کی مسلسل 5ویں ون ڈے فتح ہے جس کے بعد قومی ٹیم آئی سی سی ویمنز چیمپیئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر دوسرے نمبر پر پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیے: فاطمہ ثنا کا ایک اور سنگ میل: صرف 15 گیندوں پر نصف سینچری بناکر ٹی 20 کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سیریز کا دوسرا ایک روزہ میچ 25 جولائی کو ہمبنٹوٹا میں ہی کھیلا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان ویمنز بمقابلہ سری لنکا پاکستان ویمنز ٹیم کی فتح سدرہ امین صدف شمس فاطمہ ثنا گل فیروزہ