وزیراعظم کی آذربائیجان کے صدر سے ملاقات؛ بھارت کیساتھ کشیدگی میں پاکستان کی حمایت پر اظہارِ تشکر
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے باکو کے دورے کے دوران آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
یہ ملاقات اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ہوئی، جہاں وزیراعظم نے اجلاس کی شاندار میزبانی پر صدر علییف کو مبارکباد دی اور پاکستانی وفد کی پرتپاک میزبانی پر آذربائیجان کا شکریہ ادا کیا۔
بات چیت کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے موقع پر پاکستان کی حمایت کرنے پر آذربائیجان کے صدر اور عوام کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان نے ہر مشکل وقت میں آذربائیجان کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان جاری سرمایہ کاری کے منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کیا گیا جبکہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے شعبوں میں روابط کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اقتصادی شراکت داری کو وسعت دینے اور مشترکہ سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے کے عزم کو دہرایا۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے صدر الہام علیوف کو جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دوبارہ دعوت بھی دی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی امید ظاہر کی گئی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان آذربائیجان کے
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔