شمالی پہاڑوں میں گلیشئیر پھٹنے کا خطرہ بڑھ گیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
سٹی42: شمالی علاقوں میں گلیشئیر پھٹنے اور سیلاب کا خطرہ خوفناک شکل اختیار کر گیا۔ ہفتے کے روز گلیشئیر پھٹنے کے خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ پاکستان کے سرد ترین شمالی علاقوں میں ٹمپریچر نے 28 سال کی بلند ترین سطح عبور کر ڈالی۔ چلاس میں ٹمپریچر 49 ڈگری سیلسئیس تک پہنچ گیا۔
میٹ ڈیپارٹمنت نے آج دعویٰ کیا ہے کہ آج ملک کا گرم ترین علاقہ گلگت بلتستان کا بلندی پر واقع شہر چلاس رہا ہے۔ میٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اس نے چلاس میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 48.
نثار حویلی لاہور سے شبیہہَ ذوالجناح کی برآمدگی، جلوس روایتی راستوں پر رواں
دریں اثنا، بونجی میں درجہ حرارت 46.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ تاریخی انتہائی زیادہ سے زیادہ ریکارڈ 12 جولائی 1971 کو 45.6 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔
میٹ ڈیپارٹمنت نے رپورٹ کیا کہ آج گلگت کی وادی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ، ہنزہ کی وادی میں 39، سکردو کے بلند ترین شہر میں 38 اور بلندی پر واقع شہر استور میں 37 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
دوحہ میں حماس اسرائیل مذاکرات کی ٹیبل پھر سج گئی، اسرائیلی وفد کل جائےگا
خیبر پختونخوا کے بلند ترین شہر چترال میں 42 ڈگری سینٹی گریڈ، دیر میں 39، کشمیرکے دارالحکومت مظفر آباد میں 40، ایبٹ آباد میں 33 اورکوئٹہ میں 39 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
بظاہر ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ برف پوش علاقوں میں گلیشیائی جھیل پھٹنےکے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے پہلے بھی الرٹ جاری کیا تھا کہ اس ہفتے کے دوران گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے قریبی علاقوں میں اچانک طغیانی جیسے واقعات ہوسکتے ہیں، ان علاقوں میں درجہ حرارت زائد ہے، زائد درجہ حرارت برف اور گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار کو تیز کرسکتا ہے۔
عاشور کے دن موسم کی فورکاسٹ؛ بارش کہاں کہاں برسے گی
چلاس میں ایک مہینہ پہلے کیا صورتحال تھی
مئی کے گرم موسم کے درمیان گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں برف باری نے خطے میں پھر سے ٹھنڈک کا موسم لوٹ آیا تھا۔ دیامر اور چلاس کے علاقے میں سیاحوں نے موسم کی تبدیلی کے ساتھ غیر متوقع طور پر لطف اٹھایا کیونکہ آسمان سے برف مسلسل گر رہی تھی۔
مئی میں بابوسر ٹاپ، نانگا پربت اور بٹوگاہ ٹاپ پر برف باری کے ساتھ پارہ نقطہ انجماد سے نیچے گر گیا تھا۔
غیر ملکی خاتون کو ہراساں کرنے والا ملزم گرفتار
برفباری کے باعث شاہراہ بابوسر ناران ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی تھی۔ کوہستان جاجل پوائنٹ پر شاہراہ قراقرم پر برفباری کے سبب ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی تھی۔
بابوسر روڈ، جو وادی کاغان میں ناران کو گلگت بلتستان کے چلاس سے ملاتی ہے، سات ماہ تک بند رہنے کے بعد حال ہی میں دوبارہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا تھا۔
بابوسر ٹاپ اور بابوسر پاس عموماً ہر سال نومبر سے جون تک شدید برف باری کی وجہ سے بند رہتے ہیں۔
پولیس نے ہنجروال سے اغوا ہونے والا بچہ چند گھنٹوں میں بازیاب کرالیا
سطح سمندر سے 13,700 فٹ کی بلندی پر واقع بابوسر ٹاپ ایک مشہور سیاحتی مقام ہے۔ گلگت بلتستان آنے والے سیاح موسم اور دلکش نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے بابوسر پاس سے سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
ا۔
گزش
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسکردو میں 63 ملی میٹر، استور میں 28 ملی میٹر، گوپس میں 17 ملی میٹر، بونجی میں 14 ملی میٹر، چلاس میں 12 ملی میٹر، گلگت اور بگروٹ میں 8 ملی میٹر، دیر (بالائی 42 ملی میٹر، زیریں 13 ملی میٹر)، کالام میں 22 ملی میٹر، پتن میں 31 ملی میٹر اور پتن میں 31 ملی میٹر بارش ہوئی۔ راولاکوٹ اور گڑھی دوپٹہ 01۔
پی ایم ڈی نے جیکب آباد کو ملک کا گرم ترین مقام قرار دیا جہاں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ گیا جبکہ بہاولنگر، دادو، پڈعیدن، موہنجو داڑو اور مٹھی 43 ڈگری سینٹی گریڈ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
Waseem Azmet
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ سے زیادہ گلگت بلتستان علاقوں میں ریکارڈ کیا چلاس میں ملی میٹر
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔