City 42:
2026-06-03@02:49:32 GMT

  شمالی پہاڑوں میں گلیشئیر پھٹنے کا خطرہ بڑھ گیا

اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT

سٹی42: شمالی علاقوں میں گلیشئیر پھٹنے اور سیلاب کا خطرہ خوفناک شکل اختیار کر گیا۔ ہفتے کے روز  گلیشئیر پھٹنے کے خطرے کی گھنٹی بج گئی۔  پاکستان کے سرد ترین شمالی علاقوں میں ٹمپریچر نے  28 سال کی بلند ترین سطح عبور کر ڈالی۔ چلاس میں ٹمپریچر  49  ڈگری سیلسئیس تک پہنچ گیا۔

میٹ ڈیپارٹمنت نے آج دعویٰ کیا ہے کہ آج ملک کا گرم ترین علاقہ گلگت بلتستان کا بلندی پر واقع شہر  چلاس رہا ہے۔ میٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق  اس نے چلاس میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 48.

5 ° C ریکارڈ کیا، جس نے 17 جولائی 1997 کو 47.7 ° C کے پچھلے تاریخی انتہائی زیادہ سے زیادہ ریکارڈ کو توڑ دیا۔

  نثار حویلی لاہور سے شبیہہَ ذوالجناح کی برآمدگی، جلوس روایتی راستوں پر رواں

دریں اثنا، بونجی میں درجہ حرارت 46.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ تاریخی انتہائی زیادہ سے زیادہ ریکارڈ 12 جولائی 1971 کو 45.6 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔

میٹ ڈیپارٹمنت نے رپورٹ کیا کہ آج گلگت  کی وادی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ، ہنزہ کی وادی  میں 39،  سکردو  کے بلند ترین شہر میں 38 اور بلندی پر واقع شہر استور میں 37 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

دوحہ میں حماس اسرائیل مذاکرات کی ٹیبل پھر سج گئی، اسرائیلی وفد کل جائےگا

 خیبر پختونخوا کے بلند ترین شہر  چترال میں 42 ڈگری سینٹی گریڈ،  دیر میں 39، کشمیرکے دارالحکومت مظفر آباد میں 40، ایبٹ آباد میں 33 اورکوئٹہ میں 39 ڈگری سینٹی گریڈ  ریکارڈ کیا گیا۔

بظاہر ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ  برف پوش علاقوں میں گلیشیائی جھیل پھٹنےکے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

محکمہ موسمیات نے پہلے بھی الرٹ جاری کیا تھا کہ اس ہفتے کے دوران گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے قریبی علاقوں میں اچانک طغیانی جیسے واقعات ہوسکتے ہیں، ان علاقوں میں   درجہ حرارت  زائد  ہے،  زائد درجہ حرارت برف اور گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار کو  تیز کرسکتا ہے۔

عاشور کے دن موسم کی فورکاسٹ؛ بارش کہاں کہاں برسے گی

چلاس میں ایک مہینہ پہلے کیا صورتحال تھی

 مئی کے گرم موسم کے درمیان گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں برف باری نے خطے میں پھر سے ٹھنڈک کا موسم لوٹ آیا تھا۔  دیامر اور چلاس کے علاقے میں سیاحوں نے موسم کی تبدیلی کے ساتھ غیر متوقع طور پر لطف اٹھایا کیونکہ آسمان سے برف  مسلسل گر رہی تھی۔

مئی میں بابوسر ٹاپ، نانگا پربت اور بٹوگاہ ٹاپ پر برف باری کے ساتھ پارہ نقطہ انجماد سے نیچے گر گیا تھا۔

غیر ملکی خاتون کو ہراساں کرنے والا ملزم گرفتار

برفباری کے باعث شاہراہ بابوسر ناران ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی تھی۔ کوہستان جاجل پوائنٹ پر شاہراہ قراقرم پر  برفباری کے سبب ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی تھی۔

بابوسر روڈ، جو وادی کاغان میں ناران کو گلگت بلتستان کے چلاس سے ملاتی ہے، سات ماہ تک بند رہنے کے بعد حال ہی میں دوبارہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا تھا۔

بابوسر ٹاپ اور بابوسر پاس عموماً ہر سال نومبر سے جون تک شدید برف باری کی وجہ سے بند رہتے ہیں۔

پولیس نے ہنجروال سے اغوا ہونے والا بچہ چند گھنٹوں میں بازیاب کرالیا

سطح سمندر سے 13,700 فٹ کی بلندی پر واقع بابوسر ٹاپ ایک مشہور سیاحتی مقام ہے۔ گلگت بلتستان آنے والے سیاح موسم اور دلکش نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے بابوسر پاس سے سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ا۔

گزش

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسکردو میں 63 ملی میٹر، استور میں 28 ملی میٹر، گوپس میں 17 ملی میٹر، بونجی میں 14 ملی میٹر، چلاس میں 12 ملی میٹر، گلگت اور بگروٹ میں 8 ملی میٹر، دیر (بالائی 42 ملی میٹر، زیریں 13 ملی میٹر)، کالام میں 22 ملی میٹر، پتن میں 31 ملی میٹر اور پتن میں 31 ملی میٹر بارش ہوئی۔ راولاکوٹ اور گڑھی دوپٹہ 01۔

پی ایم ڈی نے جیکب آباد کو ملک کا گرم ترین مقام قرار دیا جہاں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ گیا جبکہ بہاولنگر، دادو، پڈعیدن، موہنجو داڑو اور مٹھی 43 ڈگری سینٹی گریڈ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

Waseem Azmet

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ سے زیادہ گلگت بلتستان علاقوں میں ریکارڈ کیا چلاس میں ملی میٹر

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا