اے سی میں ڈرائی موڈ کیا کام کرتا ہے اور یہ کیسے بجلی کا بِل کم کرسکتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
اے سی میں ایک آپشن موجود ہوتا ہے جو ڈرائی موڈ "Dry Mode" کہلاتا ہے اور بہت کم لوگ جانتے ہونگے کہ یہ آپشن آپ کے بجلی کے بلوں میں کمی کرسکتا ہے۔
ڈرائی موڈ کا مقصد ہوا سے نمی (humidity) کو کم کرنا ہوتا ہے نہ کہ کمرے کو مکمل طور پر ٹھنڈا کرنا۔ یہ موڈ خاص طور پر ان علاقوں یا موسموں میں کارآمد ہوتا ہے جہاں زیادہ نمی ہوتی ہے.
اس ڈرائی موڈ میں اے سی کمپریسر تھوڑے تھوڑے وقفے سے چلتا ہے اور پنکھا کم رفتار سے چلتا ہے۔ ایئر کنڈیشنر کمرے کی نمی جذب کرتا ہے اور اسے پانی میں تبدیل کرکے باہر نکالتا ہے۔ اس سے درجہ حرارت میں ہلکی سی کمی آتی ہے، مگر زیادہ نہیں۔
ڈرائی موڈ بجلی کا بِل کیسے کم کرتا ہے؟
عام کولنگ موڈ میں کمپریسر مسلسل چلتا ہے جبکہ ڈرائی موڈ میں کمپریسر وقفے وقفے سے چلتا ہے۔ عام کولنگ میں زیادہ بجلی استعمال ہوتی ہے جبکہ موخر الذکر میں کم بجلی استعمال ہوتی ہے۔
ڈرائی موڈ میں چونکہ کمپریسر زیادہ دیر تک نہیں چلتا اسی وجہ سے بجلی کی کھپت 30 فیصد سے 50 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر ان دنوں میں جب آپ کو زیادہ ٹھنڈک نہیں بلکہ صرف نمی سے نجات چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈرائی موڈ موڈ میں چلتا ہے ہے اور
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔