اے سی میں ڈرائی موڈ کیا کام کرتا ہے اور یہ کیسے بجلی کا بِل کم کرسکتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
اے سی میں ایک آپشن موجود ہوتا ہے جو ڈرائی موڈ "Dry Mode" کہلاتا ہے اور بہت کم لوگ جانتے ہونگے کہ یہ آپشن آپ کے بجلی کے بلوں میں کمی کرسکتا ہے۔
ڈرائی موڈ کا مقصد ہوا سے نمی (humidity) کو کم کرنا ہوتا ہے نہ کہ کمرے کو مکمل طور پر ٹھنڈا کرنا۔ یہ موڈ خاص طور پر ان علاقوں یا موسموں میں کارآمد ہوتا ہے جہاں زیادہ نمی ہوتی ہے.
اس ڈرائی موڈ میں اے سی کمپریسر تھوڑے تھوڑے وقفے سے چلتا ہے اور پنکھا کم رفتار سے چلتا ہے۔ ایئر کنڈیشنر کمرے کی نمی جذب کرتا ہے اور اسے پانی میں تبدیل کرکے باہر نکالتا ہے۔ اس سے درجہ حرارت میں ہلکی سی کمی آتی ہے، مگر زیادہ نہیں۔
ڈرائی موڈ بجلی کا بِل کیسے کم کرتا ہے؟
عام کولنگ موڈ میں کمپریسر مسلسل چلتا ہے جبکہ ڈرائی موڈ میں کمپریسر وقفے وقفے سے چلتا ہے۔ عام کولنگ میں زیادہ بجلی استعمال ہوتی ہے جبکہ موخر الذکر میں کم بجلی استعمال ہوتی ہے۔
ڈرائی موڈ میں چونکہ کمپریسر زیادہ دیر تک نہیں چلتا اسی وجہ سے بجلی کی کھپت 30 فیصد سے 50 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر ان دنوں میں جب آپ کو زیادہ ٹھنڈک نہیں بلکہ صرف نمی سے نجات چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈرائی موڈ موڈ میں چلتا ہے ہے اور
پڑھیں:
مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے انسانی و مکینل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراج پر نہانے پر پابندی یقینی بنائی جائے اور دریاؤں، ڈیموں اور بیراج کی ڈرون سے مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بارش اور فلڈ سے آگاہ کرنے کے لیے مساجد اور میڈیا پر اعلانات کیے جائیں۔کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر مریم نواز نے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نوٹس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھمبوں پر بجلی کے بے ہنگم لٹکتے تار انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری ایکشن کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔مریم نواز نے مون سون کے دوران ہر کنسٹرکشن سائٹ کو باقاعدہ محفوظ بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ انتظامیہ خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لے کر رضاکارانہ طور پر خالی کروائے۔