تین برس میں انڈسٹریل سیکٹر بری طرح متاثر ہوا ہے، شہباز رانا
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
اسلام آباد:
تجزیہ کار شہباز رانا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صنعتیں بند ہو رہی ہیں، ملک میں بجلی اتنی مہنگی ہے کہ انڈسٹری نے متبادل ذرائع پر انحصار کرنا شروع کر دیا ہے.
ایکسپریس نیوز کے پروگرام دی ریویو میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تین سال کے عرصہ میں مجموعی طور پرانڈسٹریل سیکٹر بری طرح متاثر ہوا ہے، اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ انٹرسٹ ریٹس بہت زیادہ تھے۔ دوسرا فیکٹر یہ ہے کہ اگر فیکٹریاں چل رہی ہیں تو کیسے چل رہی ہیں.
دوسال میں نیشنل گرڈ سے صنعتی شعبے میں بجلی کی کھپت میں 20 فیصد کمی بڑا نمبر ہے، نیٹ میٹرنگ کے صنعتی صارفین کی تعداد 2022میں 1567سے بڑھ کر 2024میں 6829 ہو گئی.
وزیر اعظم شہباز شریف کی کوشش ہے کہ کسی طریقے سے بجلی کے ٹیرف میں کمی کی جائے، خبر یہ ہے کہ حکومت نے صنعتی و زرعی شعبے کیلیے تین سالہ بجلی ریلیف پلان ڈونرز کو پیش کر دیا ہے،
تجزیہ کارکامران یوسف نے کہا کہ ملک میں بجلی تو وافر مقدار میں پیدا ہو رہی ہے لیکن اس کی کھپت کم ہو رہی ہے ،گزشتہ دو سالوں میں ہماری صنعت کیلیے بجلی کے استعمال میں بیس فیصد کمی ہوئی ہے، ایک تو پاکستان میں صنعتیں بند ہو رہی ہیں، دوسرا یہ کہ بجلی اتنی مہنگی ہے کہ انڈسٹری نے متبادل ذرائع پر انحصار شروع کر دیا ہے، وفاقی بجٹ میں ترقیاتی بجٹ جتنا زیادہ ہوگا، جتنی زیادہ اسپینڈنگ ہوگی، آپ کو نظر آئے گا کہ ملک میں معاشی ترقی کی رفتار کتنی ہے۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان رہی ہیں ہو رہی
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار