بلوچستان میں مون سون کی تباہ کاریاں: خواتین اور بچوں سمیت 7 افراد جاں بحق، بنیادی ڈھانچہ متاثر
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
بلوچستان میں حالیہ مون سون بارشوں، طوفانی ہواؤں اور آسمانی بجلی کے نتیجے میں جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ پی ڈی ایم اے (صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مختلف حادثات میں خواتین اور بچوں سمیت 7 افراد جاں بحق اور 7 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ضلع واشک میں سیلابی ریلوں کے باعث 5 مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے، جبکہ دیگر علاقوں میں جزوی نقصان ہوا۔ مجموعی طور پر 22 مکانات کو بارشوں اور سیلابی پانی سے نقصان پہنچا ہے۔
فلیش فلڈنگ کے باعث زرعی زمینوں کو بھی شدید نقصان ہوا ہے، خاص طور پر واشک اور سوراب جیسے علاقوں میں۔ لورالائی اور سوراب میں طوفانی ہواؤں نے سولر پینلز کو نقصان پہنچایا، جس سے توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ موسیٰ خیل میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔
مزید پڑھیں: ملک بھر میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
پی ڈی ایم اے کے مطابق ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہیں، اور متاثرہ اضلاع میں مزید نقصانات کے تخمینے کے لیے سروے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو امدادی سامان کی فراہمی اور عارضی پناہ گاہیں قائم کرنے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔
مون سون کا یہ سلسلہ آئندہ دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے پیش نظر شہریوں سے محتاط رہنے اور ضلعی انتظامیہ سے رابطے میں رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں کے باعث زیرِ زمین پانی کی سطح میں بہتری متوقع ہے، تاہم موجودہ صورتحال نے حفاظتی انتظامات اور انفراسٹرکچر کی کمزوریوں کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بارشیں بلوچستان پی ڈی ایم اے سیلاب مون سون.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان پی ڈی ایم اے سیلاب ڈی ایم اے
پڑھیں:
غیر قانونی سرگرمیوں کیخلاف کارروائی سے کاروبار متاثر ہوگا، جے یو آئی نظریاتی بلوچستان
اپنے بیان میں جے یو آئی نظریاتی کے رہنماؤں نے کہا کہ فوجی، بیوروکریٹ اور پولیس افسران کی غیر قانونی گاڑیوں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی، عام عوام کیخلاف کارروائی ہوتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام نظریاتی بلوچستان کے رہنماؤں نے حکومت کی جانب سے غیر قانونی سرگرمیوں اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائیوں کو عوام کی معیشت کو نقصان پہنچانے سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور ایران سے اسمگل ہونے والی تیل کے خلاف کارروائی اور چمن پاک افغان بارڈر سے آمدورفت کے لئے پاسپورٹ کو لازمی قرار دیکر عوام سے روزگار چھین رہی ہے۔ ان کارروائیوں سے معیشت متاثر ہوگی۔ اپنے جاری کردہ بیان میں اپنے بیان میں جمعیت نظریاتی کے صوبائی امیر مولانا عبدالقادر لونی، صوبائی جنرل سیکرٹری حافظ عبدالاحد کبدانی و دیگر نے حکومت کی جانب سے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کیخلاف کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی، بیوروکریٹ اور پولیس افسران بھی ہزاروں غیر قانونی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں، تاہم ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ اگر انہیں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں استعمال کرنے دیا جا رہا ہے، تو پھر عام آدمی کو کیوں اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔
جمعیت کے رہنماؤں نے کہا کہ حکمران اور ادارے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے دہشت گردی اور معاشی بحران اور بدامنی کا ملبہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں پر ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسز کی وجہ سے گاڑیوں کی قیمت آسمان تک پہنچ چکی ہے۔ عوام مجبوری کے تحت نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو استعمال کر رہے ہیں۔ بلوچستان کے عوام سے روزگار چھینا جا رہا ہے۔ پابندی سے ہزاروں لوگوں کا کاروبار متاثر ہوگا۔ ملک کی معیشت بہتر بنانے کے لیے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروای کی بجائے، ملک کو لوٹ کر باہر بینک بیلنس، پراپرٹیاں اور آفشور کمپنیوں کے مالکان سے احتساب کیا جائے۔ پہلے فوج، بیورکریٹ، پولیس آفیسر کی لگژری نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ صرف غریب شہریوں اور تاجروں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں گنگا الٹی بہہ رہی ہے، منشیات اور اسلحے کا کاروبار سرعام ہو رہا ہے۔ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ چمن بارڈر کی بندش، نان کسٹم گاڑیوں کی خلاف کارروائیوں اور ایرانی تیل پر پابندیوں عوام سے دو وقت کی روٹی چھین رہا ہیں۔