جاوید اختر متنازعہ مذہبی بیان دینے پر ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
بھارتی مصنف اور نغمہ نگار جاوید اختر ایک بار پھر اپنے متنازع بیان کے باعث سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔
ایک تقریب کے دوران دیے گئے ان کے بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ جنت اور جہنم سے متعلق طنزیہ تبصرہ کرتے نظر آرہے ہیں۔
ویڈیو میں جاوید اختر کہتے ہیں کہ "جنت میں میرے پسندیدہ پھل، جیسے کیلا اور امرود نہیں ہیں، شاید یہ پھل جہنم میں ہوں، اسی لیے میں جنت جانے کی کوشش نہیں کرتا”۔
بھارتی مصنف کے اس متنازع بیان پر تقریب میں موجود افراد ہنستے نظر آئے، تاہم سوشل میڈیا پر صارفین نے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ جاوید اختر نے محض چند لوگوں کو ہنسانے کے لیے اپنی آخرت خراب کرلی ہے۔
واضح رہے کہ یہ بیان انہوں نے دو سال قبل ایک تقریب کے دوران دیا تھا جو اب ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے تاہم یہ پہلی مرتبہ نہیں جب ان کا کوئی متنازع بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہو۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی جاوید اختر پاکستان اور مذہب سے متعلق مختلف متنازع بیانات دے چکے ہیں جن پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ایک پرانے پروگرام میں وہ کہہ چکے ہیں کہ اگر انہیں پاکستان اور جہنم میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو وہ جہنم کو ترجیح دیں گے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر جاوید اختر
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔