Express News:
2026-06-02@22:22:22 GMT

سانحہ وادی سوات؛ حکومتی بے حسی کا نوحہ

اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT

گزشتہ دنوں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والا ایک پورا خاندان دریائے سوات کی بے رحم موجوں کی نذر ہوگیا۔ یہ سانحہ صرف ایک حادثہ نہیں، بلکہ ایک چیخ ہے اور ہماری نااہل حکومتی مشینری کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔

دو گھنٹے... جی ہاں، پورے دو گھنٹے تک بے بس مرد، عورتیں اور معصوم بچے مدد کی ایک جھلک کو ترستے رہے۔ کسی کشتی کا کوئی پتہ نہیں، کسی ہیلی کاپٹر کی کوئی آہٹ نہیں۔ دریا کا شور بڑھتا گیا، اور انسانی چیخیں آہستہ آہستہ خاموش ہوتی گئیں۔ ریسکیو کا دو گھنٹے طویل انتظار، دراصل ایک اعتراف تھا کہ یہاں انسان کی قیمت ایک خبر سے زیادہ کچھ نہیں۔ کیا واقعی اتنا دشوار تھا فوری مدد پہنچانا؟ یا ہماری ترجیحات نے انسانی زندگی کو فائلوں اور بجٹ کی گرد میں دفن کردیا ہے؟

اس دلخراش واقعے نے ہمیں بتا دیا کہ اگر آپ سیر و تفریح کی نیت سے کسی پہاڑ یا دریا کے کنارے جائیں، تو حفاظت صرف اور صرف اللہ کے سپرد ہے۔ حکومت کی طرف سے نہ کوئی تیاری، نہ کوئی نظام، نہ کوئی شرمندگی۔ یہ صرف ایک خاندان نہیں ڈوبا، یہ ہماری اجتماعی غفلت اور نااہلی بھی پانی میں بہہ گئی ۔افسوس کہ کسی کو اس کا دکھ بھی نہ ہوا۔

میرا اس برس ارادہ تھا کہ فلک بوس پہاڑوں، نیلگوں جھیلوں اور شفاف فضاؤں کے دیس، گلگت بلتستان کا رخ کیا جائے۔ دل میں کئی خواب تھے، جنہیں شمال کی ہوا میں پروان چڑھانا تھا۔ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ فیصل آباد سے اسلام آباد پہنچے تو معلوم ہوا کہ مہانڈڑی کے مقام پر ناران جانے والا واحد پل، مرمت کی غرض سے چار دن کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ دوسری طرف ناران میں محصور سیاح واپسی کی راہیں تکتے، سڑکوں پر پریشان کھڑے تھے۔ اسی پل سے گزر کر ہی گلگت کی طرف جانا ممکن تھا۔ یوں گلگت بلتستان جانے کے ارمان دل میں ہی دفن کرنا پڑے اور ہنگامی طور پر متبادل پروگرام ترتیب دینا پڑا۔

سوال یہ ہے کہ اگر یہ کام صرف چار دن کا تھا، تو سیاحت کے باقاعدہ سیزن سے قبل کیوں نہ نمٹایا گیا؟ میری طرح نجانے کتنے اور مسافر ہوں گے جنہوں نے چھٹیاں لے کر، وقت اور پیسہ لگا کر منصوبے بنائے ہوں گے اور پھر یوں بدنظمی کی ٹھوکریں کھائی ہوں گی۔ فیصل آباد سے اسلام آباد تک آنے والا ایک مسافر، جس نے سرکاری نوکری سے رخصت لے رکھی تھی، سڑک کنارے کھڑا سوچ رہا تھا کہ اب وہ کہاں جائے؟ واپس کیسے لوٹے؟ اور کیوں؟

ہمارے سامنے دو راستے تھے: ایک سوات کی وادی، دوسرا کشمیر کا حسن۔ میں نے سوات کا انتخاب کیا۔ میں چار پانچ سال قبل بھی وہاں جاچکا تھا۔ چونکہ اس بار میرے ساتھ اہلِ خانہ بھی تھے، تو میں نے بہتر جانا کہ کسی مانوس مقام کا سفر اختیار کیا جائے۔ اور یہ بھی سوچا کہ حالات اب پہلے سے بہتر ہوں گے۔ کیونکہ حکومت سیاحت کو سنجیدگی سے لے رہی ہے، تو شاید اس بار تجربہ پہلے سے خوشگوار ہو۔

موٹروے پر سفر پرسکون رہا، اور پھر ہم سوات موٹروے سے گزرے، جو واقعی ایک خوبصورت شاہراہ ہے۔ مینگورہ تک کا سفر ہموار تھا، اور وہاں سے ہم نے مالم جبہ کا رخ کیا۔ مالم جبہ کی طرف بڑھتے ہوئے حیرانی تب ہوئی جب معلوم ہوا کہ اتنے مقبول سیاحتی راستے پر اکثر مقامات پر موبائل سگنلز ہی موجود نہیں۔ آج کل کے ڈیجیٹل دور میں موبائل سگنل، سیاحوں کو سیفٹی کا احساس دلاتے ہیں اور ان کی عدم موجودگی میں آپ اپنے آپ کو بے یار و مددگار محسوس کرتے ہیں۔ 

مالم جبہ سے کوئی آٹھ دس کلومیٹر قبل ہی ہم ایک ہوٹل میں قیام پذیر ہوئے۔ بارش نہ ہونے کے باعث موسم قدرے گرم تھا اور ہوٹل میں پنکھے کی ضرورت تھی۔ مگر پنکھے کی رفتار ایسی تھی گویا چل تو رہا ہے، مگر ہَوا دینے سے انکاری۔ استفسار پر بتایا گیا کہ مالم جبہ سمیت اس سارے علاقے میں لوڈ کا مسئلہ ہے، اور شاید رات بارہ بجے کے بعد بجلی معمول پر آئے۔ اتنی بڑی وادی، اور سیاحوں کا ہجوم، پھر بھی بجلی کا ایسا حال؟ ہے ناں حیرانی کی بات!
ہوٹل میں کوئی ریٹ لسٹ موجود نہ تھی، اور نہ ہی حکومت کی کوئی نگرانی۔ دکانداروں کو کھلی چھوٹ تھی کہ جتنا جی چاہے سیاحوں سے وصول کرلیا جائے۔

صبح ہوتے ہی ہم نے سامان گاڑی میں رکھا اور مالم جبہ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ نسبتاً بہتر تھا۔ چیئر لفٹ کا وقت صبح نو بجے تھا، اس لیے وقت پر پہنچے، لیکن دل تب دھک سے رہ گیا جب معلوم ہوا کہ چیئر لفٹ کی ٹکٹ 2 ہزار روپے فی فرد ہے!

بہت سے سیاح ایسے ہوتے ہیں جو بمشکل پانچ سات ہزار میں مالم جبہ کا ٹور مکمل کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے تو یہ قیمت ایک دھچکا ہے۔ بتایا گیا کہ کچھ عرصہ قبل یہی ٹکٹ 1500 روپے تھی، جسے اسی سال بڑھا کر کے اب 2 ہزار پر لایا گیا ہے۔ کوئی اور مناسب تفریح نہ ہونے کے باعث یہ خرچ ہر سیاح کی مجبوری بن جاتا ہے۔ 

چیئر لفٹ سے پہاڑوں کا نظارہ، بلند فضاؤں میں معلق ہو کر قدرتی حسن کو دیکھنا، یقیناً ایک خوشگرار تجربہ ہے۔ وہاں سے نکلے اور کالام کا رخ کیا۔ کالام کا راستہ دریائے سوات کے ساتھ ساتھ ہے ۔ بحرین سے آگے کئی مقامات پر سڑک انتہائی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ بتایا گیا کہ 2022 کے سیلاب میں یہ سڑک بری طرح متاثر ہوئی تھی، اور آج تک اس کی مناسب مرمت نہیں ہو سکی۔ سوال یہ ہے کہ دو سال سے ’’سرپلس بجٹ‘‘ بنانے والی حکومت کو یہ سڑک کیوں نظر نہیں آتی؟ یہاں روز سیاح خوار ہورہے ہیں۔

سگنلز اور ریسکیو کی عدم موجودگی اور سیاحوں کی رہنمائی کےلیے ایک بورڈ تک کا نہ ہونا، یہ سب ایک بڑی کوتاہی ہے۔ جب معیشت کا انحصار سیاحت پر ہے تو اس شعبے کو نظرانداز کرنا ناانصافی ہی نہیں، حماقت ہے۔

کالام کا موسم قدرے خوشگوار تھا۔ ناہموار سڑک پر سفر کی تھکن اتنی بڑھ چکی تھی کہ ہوٹل جاکر بس دریائے سوات کا شور سننا دل کو کافی سکون دے رہا تھا۔ ہوٹل دریا کے بالکل کنارے پر تھا، منظر بے حد خوبصورت تھا۔ مگر دل میں ایک خیال پیدا ہوا: اگر دریا جوش میں آیا تو؟

اگلی صبح ہم نے مہوڈنڈ جھیل کا رخ کیا۔ خوشی کی بات یہ تھی کہ حکومت اس سڑک کو بہتر بنانے میں لگی ہوئی ہے۔ راستہ ابھی مکمل نہیں، مگر قابلِ سفر ضرور ہے۔ جھیل کا نظارہ قدرت کا ایک شاہکار ہے۔ بلند و بالا پہاڑ، چوٹیوں سے لپٹتے بادل، اور ان کے درمیان ایک نیلا جادو، مہوڈنڈ جھیل۔ لیکن جب جھیل کے کنارے نگاہ گئی، تو جیسے سارا جادو غائب ہوگیا۔ پانی کے کنارے پھیلا کچرا، جیسے کسی نے قدرتی حسن پر بدنظمی کی سیاہی پھیر دی ہو۔ صفائی کا کوئی انتظام نہیں، حکومت کا کوئی نمائندہ نہیں، ایک بورڈ تک نہیں۔

آخر سیاحوں کی جان و مال کی حفاظت کون کرے گا؟ کیا یہ ذمے داری صوبائی حکومت کی نہیں؟ اور اگر ہے، تو یہ سب کس دن کے لیے چھوڑ رکھا ہے؟ سڑکیں، سگنلز، صفائی، ریسکیو، یہ سب سیاحتی مقامات کی ناگزیر ضرورتیں ہیں۔

ڈوبنے والے اُس خاندان کا خیال بار بار دل میں آتا ہے۔ وہ معصوم چہرے، وہ بےبس آنکھیں، وہ لمحے جب انسان مدد کے لیے آسمان کی طرف دیکھتا ہے، اور زمین پر کوئی نہیں ہوتا۔

لیکن سوال یہ ہے .

.. جن حکومتوں سے پچھلے تین برس میں کالام کی دریا برد ہوجانے والی سڑک مرمت نہ ہوسکی، جن سے پورے ایک سال میں مہانڈری کا پل تعمیر نہ ہوسکا، ان سے یہ توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے کہ وہ محض دو گھنٹوں میں ایک خاندان کو ڈوبنے سے بچا لیں گے؟

ایسے حالات میں بس یہی کہا جا سکتا ہے: إنا لله وإنا إليه راجعون
ہم اللہ کے لیے ہیں، اور ہم اُسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

 

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کا رخ کیا مالم جبہ کی طرف کے لیے

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق