سعودی عرب میں زچگی کے بعد خواتین کو 3 ماہ کی تنخواہ دینے کا قانون نافذ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
سعودی عرب میں زچگی کے بعد ملازمت پیشہ خواتین کو تین ماہ تک مکمل تنخواہ دی جائے گی۔
یہ قانون اب باقاعدہ طور پر نافذ ہو چکا ہے، جس کا اطلاق سعودی اور غیر ملکی خواتین دونوں پر یکساں ہوگا۔
سعودی جنرل سوشل انشورنس (GOSI) کے مطابق یہ سہولت سوشل سکیورٹی انشورنس پالیسی کے تحت فراہم کی جا رہی ہے، جس کی شاہی منظوری 2 جولائی 2024 کو دی گئی تھی۔
قانونی شرائط کے مطابق، خواتین کو بچے کی ولادت کے فوراً بعد سے تین ماہ تک تنخواہ (زچگی الاؤنس) دیا جائے گا۔ اگر نوزائیدہ بچہ بیمار یا معذور ہو تو خواتین کو مزید ایک ماہ کی اضافی تنخواہ بھی دی جا سکتی ہے، لیکن یہ اضافی ماہ مخصوص شرائط کے تحت دیا جائے گا۔
یہ قدم سعودی حکومت کی جانب سے خواتین کی فلاح و بہبود اور ورک لائف بیلنس کے فروغ کی بڑی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خواتین کو
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔