ممبئی میں مساجد پر لاؤڈ اسپیکر سے اذان دینے پر پابندی، مسلمان برادری پریشان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ممبئی: بھارتی شہر ممبئی میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس کے بعد شہر کی مساجد سے اذان کی آواز سنائی دینا بند ہو گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پابندی مودی حکومت کے تحت، ممبئی ہائیکورٹ کی جانب سے شور کی آلودگی (noise pollution) سے متعلق حالیہ ہدایات کے بعد سامنے آئی ہے، جسے شہر بھر میں پولیس نے فوری طور پر نافذ کیا۔ اس فیصلے کے بعد پولیس نے مذہبی مقامات سے پبلک ایڈریس سسٹمز ہٹانے کا عمل مکمل کر لیا۔
ممبئی پولیس کمشنر دیون بھارتی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام شور سے پاک شہر کے قیام کی طرف ایک بڑا قدم ہے، اور اس کا مقصد کسی مخصوص مذہبی کمیونٹی کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ایک عمومی پالیسی پر عملدرآمد ہے۔
تاہم، اس پابندی کے نتیجے میں ممبئی کے مسلمان شہری اذان کی آواز سے محروم ہو گئے ہیں اور اب وہ نماز کے اوقات جاننے کے لیے ڈیجیٹل اذان ایپس کا سہارا لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
ادھر، شہر کے پانچ مسلم مذہبی اداروں نے ممبئی ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کے طریقہ کار کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ یہ عمل مذہبی آزادی کے آئینی حق کے منافی ہے۔
یہ معاملہ بھارت میں مذہبی آزادی، شہری حقوق اور ماحولیاتی ضابطوں کے درمیان توازن سے متعلق ایک اہم بحث کو جنم دے رہا ہے، جس پر قانونی و سماجی سطح پر بحث جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔