ایران کے جوہری منصوبے کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے، فیصل بن فرحان
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
سرگئی لاروف کے ساتھ اپنی ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس وقت ہماری اولین ترجیح غزہ میں نہتے فلسطینیوں کے ناجائز اور وحشتناک قتل عام کو رکوانا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سعودی وزیر خارجہ "فیصل بن فرحان" نے کہا کہ ریاض، ایران کے جوہری پروگرام کو سفارتی طریقے سے حل کرنے پر زور دیتا ہے۔ فیصل بن فرحان نے ان خیالات کا اظہار اپنے روسی ہم منصب "سرگئی لاروف" سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ یہ ملاقات ماسکو میں انجام پائی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم علاقائی مسائل کے حل کے لئے بات چیت اور سفارتی کوششوں کو پہلی ترجیح قرار دیتے ہیں۔ تیز رفتار پیش رفت کے لیے زیادہ سے زیادہ تعاون اور تعمیری بات چیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ سعودی وزیر خارجہ نے مسئلہ فلسطین پر روس کے موقف کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسئلہ فلسطین اور ایران کے جوہری پروگرام میں روس کے متاثر کُن کردار پر اعتماد کرتے ہیں۔ ہم 1967ء کی حدود کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے خواہاں ہیں۔ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ امن ہی واحد اسٹریٹجک حل ہے۔ روسی وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں فیصل بن فرحان نے غزہ کی پٹی میں فوری، جامع اور مستقل جنگ بندی کو فلسطینی ریاست کے قیام کا پیش خیمہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری اولین ترجیح غزہ میں نہتے فلسطینیوں کے ناجائز اور وحشتناک قتل عام کو رکوانا ہے۔ ہم فلسطین-اسرائیل تنازعہ کے حتمی حل تک پہنچنے کے لئے امریکی صدر کی قیادت پر اعتماد کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فیصل بن فرحان نے کہا کہ
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔