چین اور یورپی یونین کی ترقی کا مستقبل مشترکہ مفادات پر مبنی ہے، چینی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
چین اور یورپی یونین کی ترقی کا مستقبل مشترکہ مفادات پر مبنی ہے، چینی وزیر خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 4 July, 2025 سب نیوز
برلن : چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے جرمن وزیر خارجہ جوہان واڈے فل کے ساتھ صحافیوں سے مشترکہ ملاقات کی اور ان کے سوالات کے جوابات دیے۔ جمعہ کے روز چینی میڈیا کے مطا بق وانگ ای نے کہا کہ سفارتکاری اور سلامتی پر چین جرمنی اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا موجودہ دور جامع، عملی، واضع اور تعمیری ہے جس سے دونوں فریقوں کے درمیان باہمی تفہیم اور اتفاق رائے میں اضافہ ہوا ہے۔
چین یورپ تعلقات کے حوالے سے وانگ ای نے کہا کہ چین اور یورپی یونین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 50 سالہ سفر کی اہم روشن خیالی یہ ہے کہ چین اور یورپی یونین شراکت دار ہیں، مرکزی نظریہ تعاون ہے، کلیدی قدر آزادی ہے، اور ترقی کا مستقبل مشترکہ مفادات پر مبنی ہے۔ریئر ارتھ کے بارے میں وانگ ای نے کہا کہ دوہرے استعمال کی اشیاء پر ضروری کنٹرول کرنا تمام ممالک کی جانب سے خودمختاری کا نفاذ اور ایک بین الاقوامی ذمہ داری بھی ہے۔ ریئر ارتھ کی برآمدات چین اور یورپ کے درمیان کبھی بھی مسئلہ نہیں رہی، اور نہ ہونا چاہئے.
جب تک متعلقہ برآمدی کنٹرول پر کاربند رہا جائے اور ضروری طریقہ کار پر عمل کیا جائے تو یورپی کاروباری اداروں کی عام ضروریات کو پورا کیا جاسکے گا.یوکرین بحران کے حوالے سے وانگ ای نے کہا کہ چین امن مذاکرات کو فروغ دینے کے اصول پر عمل پیرا ہے، تنازع کے فریقین کو مہلک ہتھیار فراہم کرنے سے گریز کرتا ہے اور دوہرے استعمال کی اشیاء کو سختی سے کنٹرول کرتا ہے۔
چین نے برازیل سمیت گلوبل ساؤتھ کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ میں “فرینڈز آف پیس” گروپ شروع کیا تاکہ جنگ بندی کے لئے زیادہ قوتیں جمع ہو سکیں۔ چین یہ چاہتا ہے کہ تمام فریق اس سلسلے میں تعمیری کردار ادا کریں، ایک جامع، دیرپا اور پابند امن معاہدے تک پہنچانے کی کوشش کریں اور ایک متوازن، موثر اور پائیدار یورپی سکیورٹی ڈھانچے کی تعمیر کریں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان کی چین میں منعقدہ 2025 ایس سی او فلم فیسٹیول میں شرکت اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی کا سلسلہ جاری، انڈیکس ایک لاکھ 31 ہزار سے تجاوز کرگیا امپورٹڈ گاڑیوں، کاسمیٹکس سمیت 6980اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی اور ٹیکسز میں کمی چین کے مفادات کی قیمت پر کسی بھی تجارتی معاہدے کے خلاف جوابی اقدامات اٹھائے جائیں گے، چینی وزارت تجارت دوسری چین وسطی ایشیاء سمٹ سے شی جن پھنگ کے اہم خطاب کا سنگل ایڈیشن شائع چین ہمیشہ یورپی انضمام کے عمل کی حمایت کرتا ہے ،چینی وزیر خارجہ چین ترقی پذیر ممالک کو فعال طور پر مالی مدد فراہم کر رہا ہے، چینی وزیر خزانہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چین اور یورپی یونین وانگ ای نے کہا کہ چینی وزیر
پڑھیں:
کلچر کب تہذیب بنتا ہے
سماجی و کلچرل ارتقا ایک جامع اصطلاح ہے جو کلچرل ارتقاCultural Evolutionاور سماجی ارتقاSocial evolution کے مختلف نظریات پر مشتمل ہے۔یہ نظریات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کلچرز اور معاشرے وقت کے ساتھ کس طرح بدلتے اور ترقی کرتے ہیں۔سماجی و کلچرل ارتقا کو ایک ایسے عمل کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ معاشرے کی ساخت اور تنظیم میں تبدیلی آتی ہے اور معاشرہ ایک ایسی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اپنی ابتدائی شکل سے معیار،خصوصیات اور ساخت کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہوتا ہے۔
ماہرینِ بشریات یعنی اینتھروپالوجسٹ اور ماہرینِ عمرانیات عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ انسان فطری طور پر سماجی رجحانات رکھتا ہے اور اس کے بہت سے سماجی رویوں کی وجوہات جینیاتی یعنی وراثتی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے سماجی عوامل اور مختلف حالات کارفرما ہوتے ہیں۔معاشرے ایک پیچیدہ سماجی ماحول میں وجود پذیر ہوتے ہیں اور خود کو اس ماحول کے مطابق ڈھالتے رہتے ہیں۔اسی لیے یہ ایک لازمی حقیقت ہے کہ تمام معاشرے وقت کے ساتھ تبدیلی سے گزرتے رہتے ہیں۔
سماجی و کلچرل ارتقا کے نظریات پیش کرنے والوں میںAuguste Comte،ہربرٹ سر اور لیوس مورگن نمایاں تھے۔ان کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ زیادہ مہذب اورترقی یافتہ بنتے جاتے ہیں۔ان نظریات سے بھی بہت پہلے چودھویں صدی عیسوی کے عظیم مسلمان تاریخ دان اور مفکر ابنِ خلدون نے یہ نتیجہ اخذکیا تھا کہ معاشرے زندہ جانداروںLiving organizms کی مانند ہوتے ہیں۔وہ قدرتی اور آفاقی اسباب کے تحت ایک چکرCycleسے گزرتے ہیں یعنی ان کی پیدائش،نشوونما،بلوغت اور آخرکار ان کے لیے موت ناگزیر ہو جاتی ہے۔جرمن فلسفی ہیگلHegel کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک قدیم ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں۔
شاید اس وقت وہ حالتِ فطرت میں ہوتے ہیں اور پھر ترقی کرتے ہوئے صنعتی یورپ جیسے معاشرے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔اسی طرح ایڈم فرگوسن،جان ملر اور ایڈم اسمتھ کا موقف تھا کہ تمام معاشرے ترقی کے چار بنیادی مراحل سے گزرتے ہیں پہلا مرحلہ شکار اور خوراک جمع کرنے کا دور،دوسرا مویشی پالنے اور خانہ بدوشی کا دور،تیسرا مرحلہ زرعی دور اور چوتھا تجارت اور صنعت کا دور۔اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ تمام ماہرین ابنِ خلدون کے خوشہ چین نظر آتے ہیں۔
تہذیب ،سویلائزیشن کی اصطلاح بنیادی طور پر انسانی کلچر کے اس مادی اور عملی پہلو کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ٹیکنالوجی،سائنس اور محنت کی تقسیم یعنیDivision of Labourکے لحاظ سے بہت ترقی یافتہ اور پیچیدہ ہو۔قدیم زمانے میں مہذب لوگوں کی اصطلاح اس لیے استعمال کی جاتی تھی تاکہ انھیں وحشی اور ابتدائی Primitiveسے الگ ظاہر کیا جا سکے۔آج کے دور میں مہذب معاشروں کا تقابل اکثر مقامی یا قبائلی معاشروں سے کیا جاتا ہے۔یہ امر بھی بہت افسوس ناک ہے کہ بظاہر تہذیب یافتہ اقوام نے وسائل پر قبضے کے لیے بظاہر وحشیوں پر بہت مظالم ڈھائے۔تاہم آج کل اس اصطلاح کو پہلے کی نسبت زیادہ وسیع معنی میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں تہذیب اور کلچر کو تقریباً ایک ہی مفہوم میں لیا جاتا ہے۔اس وسیع مفہوم کے مطابق تہذیب سے مراد کوئی بھی اہم نمایاں اور واضح طور پر منظم انسانی معاشرہ ہو سکتا ہے۔
ایک اینتھروپالوجسٹ کے مطابق کلچر اس وقت تہذیب میں ڈھل جاتا ہے جب خاندان،گروہ یا سوسائٹی جسمانی،ذہنی یا مالی طور پر معذور فرد کی نگہداشت شروع کر دیتی اور اس کے لیے اسپتال اور ادارے وجود میں آجاتے ہیں۔انھیں معذور ہونے کی بنا پر مرنے کے لیے نہیں چھوڑ دیا جاتا۔اس نے کہا کہ کھدائیوں کے دوران اگر کسی ڈھانچے کی ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑی ہوئی ملے تو سمجھ جانا چاہیے کہ اس معاشرے نے معذور افراد کی دیکھ بھال کے نظام کو عملی طور پر اپنا رکھا تھا ورنہ وہ فرد خود کسی قابل نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھوک اور پیاس سے مر جاتا۔
تہذیب انسانی معاشرے کی ترقی کی وہ بظاہر اعلیٰ ترین منزل ہے جہاں لوگ صرف اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ self actualizationکی طرف قدم بڑھاتے،منظم سیاسی،معاشی،سماجی،علمی،مذہبی اور کلچرل ادارے تشکیل دیتے ہیں۔تہذیب دراصل انسانی زندگی کے اس منظم اور ترقی یافتہ نظام کا نام ہے جس میں علم،فن، قانون، ریاست، عدالت، تجارت، شہروں کا بسایا جانا،نمایندہ عمارتوں کی تعمیر،روزافزوں ترقی کرتی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سب ایک دوسرے سے مل کر ایک مستحکم معاشرہ وجود میں لاتے ہیں۔لفظ سویلائزیشن لاطینی لفظ Civisیعنی شہری سے نکلا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہذیب کا شہری زندگی،منظم حکومت اور اجتماعی اداروں سے گہرا تعلق ہے۔تہذیب کلچر کا منظم،ترقی یافتہ اور ادارہ جاتی Institutionalizedروپ ہے جس میں حکومت،قانون،عدالت،شہروں کی منصوبہ بندی،تجارت،سائنس اور ٹیکنالوجی شامل ہو جاتے ہیں۔
آرنلڈ ٹائن بی کے مطابق Civilization rise where societies successfully respond to challenges..ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر کلچر تہذیب میں نہیں ڈھلتا لیکن جب اس کے اندر یہ عناصر جیسے خانہ بدوشی کے بجائے مستقل آبادیاں قائم ہو جائیں،زراعت فوڈ سیکیورٹی کی ضامن بن جائے،منظم حکومت ،معاشی نظام ہو،سماجی ادارے بن جائیں،سائنس اور ٹیکنالوجی،فنونِ لطیفہ،مذہب، فلسفہ اور محنت کی تقسیم ہو تو کلچر، تہذیب کہلا سکتا ہے۔
تہذیبوں کے زوال کے عمومی اسباب کا جائزہ لیں تو یہ سامنے آتا ہے کہ یہ عظیم تہذیبیں جب اخلاقی انحطاط کا شکار ہوئیں،سیاسی بدعنوانی حد کو چھونے لگی،معاشی بحران نے جنم لے لیا،بیرونی حملے روکے نہ جا سکے،باہم اختلافات بہت بری صورت اختیار کر گئے،علمی و فکری جمود طاری ہوا اورماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے قابل نہ رہیں تو یہ تہذیبیں زوال آشنا ہو کر مٹ گئیں۔