تھائی لینڈ جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لئے اچھی خبر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
تھائی لینڈ ایک ابھرتا ہوا سیاحتی مقام ہے جو سیاحوں کو متحرک ثقافت، شاندار ساحل اور بھرپور تاریخ پیش کرتا ہے تاکہ وہ وہاں معیاری وقت گزار سکیں۔
ملک نے پاکستانی شہریوں کے لیے ای ویزا کی سہولت شروع کی جس سے ذاتی طور پر درخواست جمع کرانے کی شرط ختم کردی گئی ہے۔
پاکستانی شہری جو کہ تھائی لینڈ کا وزیٹر کے طور پر سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہیں ویزا حاصل کرنے کے لیے کم از کم بینک اسٹیٹمنٹ جیسی ضروریات کو پورا کرنا ہوگا۔
آن لائن ویزا کا عمل یکم جنوری 2025 کو شروع ہوا اور پاکستان اور افغانستان میں مقیم تمام غیر ملکی شہریوں کو تھائی ویزا کے لیے تھائی ای ویزا کی سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے درخواست دینے کی ضرورت ہوگی۔
آن لائن درخواست دینے کے لیے، پلیٹ فارم تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے https://www.
ای ویزا کی درخواست منظور ہونے کے بعد، درخواست دہندگان کو ایک تصدیقی ای میل موصول ہوگی، جسے انہیں پرنٹ کرکے روانگی کے وقت ایئر لائن اور تھائی لینڈ پہنچنے پر تھائی امیگریشن حکام کو پیش کرنا ہوگا۔
تھائی لینڈ کے وزٹ ویزا کے لیے درخواست دہندہ کو آخری چھ ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹ جمع کرنی ہوگی، کم از کم بیلنس روپے 350,000 فی شخص ہونا چاہیے۔
کنفرم ٹکٹ کے ساتھ ایک ماہ کے وزٹ ویزا کی فیس 19500 روپے ہے جبکہ اگر آپ تصدیق شدہ ٹکٹ کے بغیر درخواست دے رہے ہیں تو اسی ویزا کے لیے 27900 روپے وصول کیے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تھائی لینڈ ویزا کی کے لیے
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک