یاس دیال نے جنسی استحصال کے الزام پر خاموشی توڑ دی، خاتون پر چوری اور فراڈ کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
نیو دہلی(نیوز ڈیسک)انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2025 کی فاتح ٹیم رائل چیلنجرز بنگلورو کے فاسٹ بولر یاس دیال نے جنسی استحصال کا الزام لگانے والی خاتون کیخلاف جوابی مقدمہ کی درخواست دے دی۔
گزشتہ دنوں غازی آباد کی ایک خاتون نے یاس دیال پر شادی کا جھانسہ دے کر جنسی استحصال کا الزام لگاتے ہوئے انکے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی، خاتون نے الزام لگایا تھا کہ وہ پانچ سال سے یاس دیال کے ساتھ تعلق میں تھیں اور کرکٹر نے اس تعلق کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔
27 سالہ یاس دیال نے اس الزام پر خاموشی توڑتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ خاتون نے ان سے لاکھوں روپے علاج اور شاپنگ کے بہانے ادھار لیے اور اب وہ ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ دائر کر کے بلیک میل کر رہی ہے۔
یاس دیال نے پریاگ راج کے پولیس اسٹیشن میں خاتون اور اس کے اہلِ خانہ کے خلاف چوری اور فراڈ کے الزام میں شکایت درج کرائی ہے۔
یاس دیال نے الزام لگایا ہے کہ خاتون نے ان کا آئی فون اور لیپ ٹاپ بھی چوری کیا اور ان کے پاس اس کے ثبوت موجود ہیں۔
کرکٹر کے مطابق ان کی خاتون سے پہلی ملاقات 2021 میں انسٹاگرام کے ذریعے ہوئی تھی، جس کے بعد بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا۔ بعد ازاں خاتون نے خود اور اپنے اہلِ خانہ کے علاج کے لیے بارہا رقم ادھار لی مگر آج تک واپس نہیں کی۔
یاس دیال کا کہنا ہے کہ جیسے ہی انہیں معلوم ہوا کہ خاتون نے غازی آباد میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی ہے تو انہوں نے قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی۔
یاس دیال کی جانب سے جمع کرائی گئی تین صفحات پر مشتمل درخواست میں خاتون اور اس کے دو اہلِ خانہ سمیت دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: یاس دیال نے خاتون نے کے خلاف
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول شدید گرم ہو گیا ہے اور خیبر پختونخوا سے مبینہ طور پر پی ٹی آئی ورکرز کو بڑی تعداد میں گلگت بلتستان لائے جانے پر مقامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
عوامی اور سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا سے سیاسی کارکنوں کو بسوں کے ذریعے گلگت بلتستان منتقل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے یہاں کے مقامی سیاسی عمل کو اثر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی نتائج پر من مانے اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آنے والے ان انتخابات کو سبوتاژ کرنا نہ صرف جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ یہ یہاں کے پرامن سیاسی عمل کو بھی شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
مقامی سطح پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں جس طرح پورے پاکستان میں بے چینی، تباہی اور رکاوٹ کی سیاست کو فروغ دیا، اب وہ اسی تباہ کن نقطہ نظر کو گلگت بلتستان میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔
سوشل میڈیا اور سیاسی مہمات میں اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اب 2 واضح راستے ہیں؛ ایک طرف پی ٹی آئی کے تحت مبینہ طور پر نفرت، تقسیم، افراتفری اور عدم استحکام کی سیاست ہے، تو دوسری طرف امن، خوشحالی، اتحاد اور ملکی ترقی کا راستہ ہے۔
عوامی آراء کے مطابق گلگت بلتستان کے غیور لوگ امن اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی قوت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں جو ان کے پرسکون خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہو۔ انتخابات کے اس نازک موقع پر عوام سے عقل مندی سے انتخاب کرنے اور ملک دشمن عزائم رکھنے والے عناصر کو مسترد کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ خطے کا امن برقرار رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی تحریک انصاف جی بی الیکشن گلگت بلتستان