فرانسیسی صدر اور خاتون اول کے درمیان تناؤ؟ برطانیہ میں ہاتھ نہ تھامنے کے واقعے پر نئی قیاس آرائیاں
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
فرانس کی خاتون اول بریجٹ میکرون نے برطانیہ کے 3 روزہ سرکاری دورے کے دوران اپنے شوہر، فرانسیسی صدر ایمانول میکرون کا ہاتھ پکڑنے سے گریز کیا، جس کے بعد جوڑے کے درمیان ممکنہ ناخوشگوار تعلق کی خبریں ایک بار پھر گردش کرنے لگیں۔
فرانسیسی صدر منگل کو اپنی اہلیہ کے ہمراہ برطانیہ پہنچے، جہاں شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ نے ان کا استقبال کیا۔ لیکن اس موقع پر جب میکرون نے اہلیہ کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا، تو خاتون اول نے ان کا ہاتھ تھامنے سے انکار کر دیا۔
یہ واقعہ فوری طور پر میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا، اور کئی حلقوں میں جوڑے کے تعلقات میں ممکنہ دراڑوں کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جانے لگیں۔
???????????????? Drama Unfolding: Macron’s wife REJECTS his hand upon arrival in London
Weeks after shoving him in the face right before cameras… pic.
— Sputnik (@SputnikInt) July 8, 2025
پہلا واقعہ
یاد رہے کہ مئی میں ویتنام پہنچنے پر بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا، جب فرانسیسی صدر کے طیارے کا دروازہ کھُلا اور صدر میکرون کی اہلیہ کا ہاتھ ان کے منہ پر پڑا۔ اس واقعے کے بعد میڈیا میں اس طرح کی خبریں آئیں کہ فرانسیسی خاتون اوّل نے صدر میکرون کو تھپڑ مارا ہے، جس پر صدر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وضاحت دی کہ وہ صرف ہنسی مذاق کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے فرانسیسی صدر کو خاتونِ اول سے مبینہ تھپڑ پڑنے کی ویڈیو وائرل
دوسرا واقعہ
برطانیہ میں اپنے دورے کے دوران، جب میکرون کا قافلہ ونزر کاسل سے روانہ ہوا، ایک اور دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ گاڑی کا دروازہ کھلا رہ گیا، جس کے نتیجے میں 2 بیگ سڑک پر گر گئے۔ اس دوران گاڑی کے پیچھے موجود اہلکاروں کی بھاگ دوڑ اور ایک دوسرے گاڑی کے کھلے دروازے کے باعث یہ منظر مزید دلچسپ بن گیا۔
میکرون کی وضاحت
اگرچہ میڈیا میں ان واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، صدر میکرون نے اس بارے میں کہا تھا کہ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ’ہلکے پھلکے انداز میں گپ شپ‘ یا مذاق کر رہے تھے۔ تاہم، ان کے اس بیان کے باوجود، عوامی سطح پر جوڑے کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے فرانسیسی صدر کو خاتون اول سے مبینہ تھپڑ؛ ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی رہنماؤں کو کیا مشورہ دیا؟
فرانس اور عالمی میڈیا میں اس وقت یہ سوال اُٹھ رہا ہے کہ کیا واقعی یہ صرف ایک معمولی بات ہے، یا فرانسیسی جوڑے کے درمیان تعلقات میں کوئی حقیقی مسئلہ ہے؟
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمانول میکرون
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمانول میکرون خاتون اول کے درمیان جوڑے کے
پڑھیں:
واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔
یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.
???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026
تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن