WE News:
2026-07-24@06:09:54 GMT

سیلاب متاثرین نے اپنے لیے کاروبار کے نئے راستے تلاش کرلیے

اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT

سیلاب متاثرہ شہری اللہ دتہ نے زندگی کی نئی شروعات کرلی جس سے وہ اپنے دوبارہ کھڑے ہونے کے علاوہ دوسروں کی آسانی کا بھی سبب بن گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین کے بجلی بلوں پر بڑے ریلیف کا فیصلہ، ٹیکسز ختم کرنے پر غور

سیلاب میں گھر اور سامان تباہ ہونے کے بعد اللہ دتہ نے دریائے راوی کے بند پر چھوٹی سی دکان قائم کر کے جوتے مرمت کرنے کا روزگار شروع کر دیا ہے۔

اللہ دتہ کا کہنا ہے کہ مشکلات کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور محنت سے اپنی زندگی دوبارہ سنوارنے کا عزم کیا ہے۔

مزید پڑھیے: دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ، سیلابی خطرہ بڑھ گیا

سیلاب متاثرہ نوجوان نے’ضرورت ایجاد کی ماں ہے‘ کے مقولے کو عملی جامہ پہنا دیا۔ بجلی کی عدم دستیابی کے باعث اس نوجوان نے موبائل فون چارج کرنے کا نیا طریقہ ایجاد کر کے نہ صرف اپنی ضرورت پوری کی بلکہ دوسروں کے لیے بھی سہولت پیدا کر دی۔

علاقہ کوٹ جان محمد کے سیلاب متاثرین گھروں کے بہہ جانے کے بعد دوبارہ تعمیر کے لیے پرعزم ہیں تاہم شدید مشکلات اور وسائل کی کمی کے باعث سخت پریشانی کا شکار ہیں۔

مزید پڑھیں: سیلاب کی تازہ ترین صورت حال: بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا

متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ ہمت نہیں ہاریں گے مگر حکومت اور اداروں کی مدد کے بغیر اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا مشکل ہے۔ دیکھیے آصف اقبال کی یہ ویڈیو رپورٹ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سیلاب متاثرہ شخص کا مثالی کام سیلاب متاثرین کوٹ جان محمد ننکانہ صاحب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سیلاب متاثرہ شخص کا مثالی کام سیلاب متاثرین کوٹ جان محمد ننکانہ صاحب سیلاب متاثرین

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب