سیلاب متاثرین نے اپنے لیے کاروبار کے نئے راستے تلاش کرلیے
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
سیلاب متاثرہ شہری اللہ دتہ نے زندگی کی نئی شروعات کرلی جس سے وہ اپنے دوبارہ کھڑے ہونے کے علاوہ دوسروں کی آسانی کا بھی سبب بن گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین کے بجلی بلوں پر بڑے ریلیف کا فیصلہ، ٹیکسز ختم کرنے پر غور
سیلاب میں گھر اور سامان تباہ ہونے کے بعد اللہ دتہ نے دریائے راوی کے بند پر چھوٹی سی دکان قائم کر کے جوتے مرمت کرنے کا روزگار شروع کر دیا ہے۔
اللہ دتہ کا کہنا ہے کہ مشکلات کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور محنت سے اپنی زندگی دوبارہ سنوارنے کا عزم کیا ہے۔
مزید پڑھیے: دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ، سیلابی خطرہ بڑھ گیا
سیلاب متاثرہ نوجوان نے’ضرورت ایجاد کی ماں ہے‘ کے مقولے کو عملی جامہ پہنا دیا۔ بجلی کی عدم دستیابی کے باعث اس نوجوان نے موبائل فون چارج کرنے کا نیا طریقہ ایجاد کر کے نہ صرف اپنی ضرورت پوری کی بلکہ دوسروں کے لیے بھی سہولت پیدا کر دی۔
علاقہ کوٹ جان محمد کے سیلاب متاثرین گھروں کے بہہ جانے کے بعد دوبارہ تعمیر کے لیے پرعزم ہیں تاہم شدید مشکلات اور وسائل کی کمی کے باعث سخت پریشانی کا شکار ہیں۔
مزید پڑھیں: سیلاب کی تازہ ترین صورت حال: بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا
متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ ہمت نہیں ہاریں گے مگر حکومت اور اداروں کی مدد کے بغیر اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا مشکل ہے۔ دیکھیے آصف اقبال کی یہ ویڈیو رپورٹ۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سیلاب متاثرہ شخص کا مثالی کام سیلاب متاثرین کوٹ جان محمد ننکانہ صاحب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیلاب متاثرہ شخص کا مثالی کام سیلاب متاثرین کوٹ جان محمد ننکانہ صاحب سیلاب متاثرین
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔