لندن:

فرانس کے صدر ایمانویل میکرون ایک بار پھر اس وقت سوشل میڈیا کی زینت بن گئے جب ان کی اہلیہ خاتون اول بریژیت میکرون نے برطانیہ کے تین روزہ سرکاری دورے کے آغاز پر طیارے سے اترتے ہوئے شوہر کا ہاتھ تھامنے سے گریز کیا۔

اس ایک لمحے نے دونوں کے تعلقات کے بارے میں چہ مگوئیوں کو ایک بار پھر جنم دے دیا ہے، شاہی استقبال کے باوجود ایوان صدر کا یہ منظر سب کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

صدر میکرون نے طیارے کی سیڑھیوں پر اہلیہ کی طرف ہاتھ بڑھایا، لیکن خاتون اول نے بلا جھجک نظرانداز کر دیا اور یہ لمحہ کیمروں نے محفوظ کر لیا۔

دوسری شرمندگی کچھ ہی گھنٹوں بعد پیش آئی جب صدر میکرون کا قافلہ ونزر کاسل سے روانہ ہوا توایک سرکاری گاڑی کا دروازہ اور پچھلا حصہ کھلا رہ گیا، ڈرائیور نے گاڑی دوڑائی اور صدر کے سامان والے بیگ سڑک پر جا گرے۔

اہلکار بھاگتے رہے لیکن قافلہ رکتا نہ نظر آیا اور ایک اور گاڑی بھی کھلے دروازے کے ساتھ بھیڑ میں دوڑتی رہی۔

یہ پہلا موقع نہیں یاد رہے مئی میں ویتنام کے دورے پر بھی خاتون اول نے میکرون کے طیارے سے اترتے ہوئے ان کے چہرے پر ہاتھ مارا تھا جسے سوشل میڈیا پر ’تھپڑ‘ کے طور پر پیش کیا گیا۔

اس پر صدر میکرون نے وضاحت دی تھی کہ وہ صرف مذاق کر رہے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: صدر میکرون

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، خاتون کو دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت
  • لاپتا امریکی سائنسدان خاتون کی باقیات جنگل سے برآمد، پراسرار گمشدگیاں معمہ بن گئیں
  • شانگلہ:چھت منہدم‘6بچے‘گاڑی کھائی میں جا گرنے پر 6مسافر گلگت میں جاںبحق
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور