ٹیکس ورلڈ، اپیرل سورسنگ لیدر ورلڈ، پیرس، کا اختتام، پاکستانی ٹیکسٹائل کی پذیرائی
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) ٹیکس ورلڈ، اپیرل سورسنگ اور لیدر ورلڈ پیرس 2025، پیرس، لی بورجے ایگزیبیشن سینٹر میں کامیابی سے اختتام پذیر ہوگئی۔ یہ نمائش ایک ایسا مرکز رہی جس نے نہ صرف تخلیق کاروں اور مینوفیکچررز کو ایک ہی چھت تلے جمع کیا، بلکہ اس کے ذریعے عالمی سطح پر مضبوط بزنس روابط قائم کرنے میں بھی مدد کی۔ موسم خزاں کے ایڈیشن میں کپڑوں کے نمایاں کاریگروں نے ٹیکس ورلڈ اور اپیرل سورسنگ پیرس میں اپنی شرکت سے نمایاں کردار ادا کیا، جس نے دنیا بھر کے بڑے ٹیکسٹائل سورسنگ ریجنز کا جامع تعارف پیش کیا۔ اس نمائش کے اہم شریک ممالک میں پاکستان سمیت چین، ترکیہ، بھارت، کوریا، تائیوان اور بنگلہ دیش شامل تھے۔پاکستان کی 23 کمپنیوں نے اپنی منفرد حکمتِ عملی، ٹیکسٹائل ڈیزائنز، سورسنگ کی صلاحیت اور نت نئے خیالات کے ساتھ عالمی مارکیٹ پر بھرپور اثر ڈالا۔ پاکستان کی نمایاں شرکت نے ٹیکسٹائل، ملبوسات اور پائیدار مصنوعات کی ایک وسیع رینج کو اجاگر کیا، جو ہنرمندی اور جدت کی عکاسی کرتا ہے۔ سی ای او ، شریک بانی زی کے انٹرنیشنل زوہیب خالد، نے کہاکہ یہ نمائش ہمارے لیے صنعت کے اسٹیک ہولڈرز سے رابطے قائم کرنے اور نئے کاروباری مواقع تلاش کرنے کا ایک بہترین موقع ثابت ہوئی۔ ہم پْر اعتماد ہیں کہ یہ روابط نتیجہ خیز شراکت داریوں میں بدلیں گے۔ہیڈ آف مارکیٹنگ ایجیلیٹی ٹیکسٹائلز احمد حسن نے کہاکہ نمائش کے پہلے ہی دن سے ہماری مصنوعات کو مثبت ردعمل ملا، ہمارے منفرد ڈیزائنز نے بین الاقوامی خریداروں کی توجہ حاصل کی، جس سے ہمیں نئے تعلقات بنانے اور اپنی مارکیٹ کی رسائی کو وسیع کرنے میں مدد ملی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔