وزیرِ اعظم کا امیرِ قطرسے ٹیلیفونک رابطہ،اسرائیلی جارحیت کیخلاف حمایت کی یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ وزیرِ اعظم نے دوحا میں اسرائیلی افواج کی جانب سے کیے گئے غیر قانونی اور بہیمانہ بمباری کی شدید الفاظ میں مذمت کی، جس کے نتیجے میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا اور شہری املاک کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے امیرِ قطر، شاہی خاندان اور قطری عوام سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور مکمل یکجہتی کا پیغام دیا۔
وزیرِ اعظم نے اس حملے کو ایک بزدلانہ اقدام قرار دیا جو اسرائیلی قیادت کی اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس جارحیت کو قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک انتہائی خطرناک اشتعال انگیزی ہے جو خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
وزیرِ اعظم نے امیرِ قطر کو یقین دلایا کہ پاکستان اسرائیلی جارحیت کے خلاف قطر کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہے۔ انہوں نے امتِ مسلمہ کی صفوں میں اتحاد پر زور دیا تاکہ اس نازک وقت میں مشترکہ موقف اپنایا جا سکے۔
امیرِ قطر نے مشکل کی اس گھڑی میں وزیرِ اعظم کی فون کال اور خلوصِ دل سے اظہارِ یکجہتی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اقدام سے بے حد متاثر ہوئے ہیں، جو پاکستان اور قطر کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کا مظہر ہے۔
دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و سلامتی کے مفاد میں رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔