سی ڈی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایگزیکٹو لینڈ اینڈ ری ہیبلیٹیشن نذیر احمد کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، نوٹیفکیشن سب نیوز پر
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
سی ڈی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایگزیکٹو لینڈ اینڈ ری ہیبلیٹیشن نذیر احمد کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، نوٹیفکیشن سب نیوز پر WhatsAppFacebookTwitter 0 9 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)سی ڈی اے میں تقرر و تبادلے ،ڈپٹی ڈائریکٹر ایگزیکٹو لینڈ اینڈ ری ہیبلیٹیشن نذیر احمد کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ، جاری تحریری احکامات کے مطابق انہیں فوری طور پر ایچ آر ڈی رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیلی حملہ اشتعال انگیز اور قطر کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے، دفتر خارجہ اسرائیلی حملہ اشتعال انگیز اور قطر کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے، دفتر خارجہ پاکستان اور ترکیہ کے مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس ،باہمی تجارتی حجم کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار میجر عدنان اسلم شہید کی نماز جنازہ چکلالہ راولپنڈی میں ادا کر دی گئی،وزیراعظم ، فیلڈ مارشل کی شرکت ہائبرڈ نظام پاکستان کیلئے مفید، کچھ لوگوں کو اس سے تکلیف ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف ملک بھر کیلئے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ مد میں بجلی 1روپے 79پیسے فی یونٹ سستی کردی گئی سعودیہ اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتوں کے ساتھ قطر کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، سعودی ولی عہد کا امیر قطر کو ٹیلی فونCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سب نیوز
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔