عمران خان کی 7 مقدمات میں درخواست ضمانت پر سماعت 13 ستمبر تک ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
عمران خان کی 7 مقدمات میں درخواست ضمانت پر سماعت 13 ستمبر تک ملتوی WhatsAppFacebookTwitter 0 9 September, 2025 سب نیوز
راولپنڈی: بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی 7 مقدمات میں درخواست ضمانت پر سماعت بغیر کسی کارروائی کے 13 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔
راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے عمران خان کی 7 مقدمات میں درخواست ضمانت پر سماعت کی جبکہ پراسیکیوٹر ظہیر شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔
بعدازاں عمران خان کی 7 مقدمات میں درخواست ضمانت پر سماعت بغیر کسی کارروائی کے 13 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایشیا کپ، فاتح ٹیم کو کتنی انعامی رقم ملے گی، تفصیلات سامنے آگئیں این او سی کے بغیر پلاٹوں کی فروخت اور تعمیرات کا انکشاف،سی ڈی اے کا بحریہ ٹاؤن کو شوکاز نوٹس جاری،کاپی سب نیوز پر عمران خان تاریخ کے واحد لیڈر ہیں جنہوں نے اوئے توئے کلچر متعارف کرایا، رانا ثنااللہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ،سی ڈی اے کو شاہ اللہ دتہ اور( سی تیرہ )کے متاثرین کی رپورٹ ایک ماہ میں جمع... ایپل کا بڑا ایونٹ: آئی فون 17 سیریز، واچ الٹرا 3 اور ایئرپوڈز پرو 3 آج متعارف فرانسیسی وزیراعظم پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکام، حکومت تحلیل یو این اجلاس: امریکا کا فلسطینی وفد کو ویزا دینے سے انکار
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عمران خان کی 7 مقدمات میں درخواست ضمانت پر سماعت ستمبر تک ملتوی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔