پاکستان اور چین کا مشترکہ اسپیس سائنس سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
پاکستان اور چین نے خلا سے متعلق تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے ایک مشترکہ اسپیس سائنس ٹریننگ سینٹر قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اقدام دونوں ملکوں کے درمیان 2025 سے 2029 تک کے ایکشن پلان کا حصہ ہے۔
یہ معاہدہ چین نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن اور پاکستان کے اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن کے درمیان جاری 2021 تا 2030 اسپیس کوآپریشن آؤٹ لائن پروگرام کے تحت کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے چاند کی چٹانیں پاکستان سمیت کن 6 ممالک کے سائنسدانوں کو دیں؟
اس منصوبے کے ذریعے خلابازوں کے مشترکہ انتخاب اور تربیت کو ممکن بنایا جائے گا جو مستقبل میں پاکستان کی انسانی خلائی مشنز میں شمولیت کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔
دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ چاند اور خلائے بسیط کی تحقیق پر مشترکہ کام جاری رکھا جائے گا، جس میں انٹرنیشنل لونر ریسرچ اسٹیشن کے کثیرالجہتی جائزے اور جدید خلائی ٹیکنالوجیز پر تعاون شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا پہلا مصنوعی سیارہ چاند کی پہلی تصویر کب بھیجے گا؟
پاکستان اسپیس سینٹر کے قیام پر بھی بات چیت جاری رکھنے پر زور دیا گیا ہے، جو تحقیق، ترقی اور خلائی ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کا مرکز ہوگا تاکہ معیشت اور سماجی ترقی کو فروغ دیا جاسکے۔
مزید برآں، دونوں ملکوں نے چین پلیٹ فارم آف ارتھ آبزرویشن سسٹم کے انٹرنیشنل ورژن کے استعمال پر بھی اتفاق کیا ہے، جس کے ذریعے پاکستان کو ریموٹ سینسنگ اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجیز تک رسائی حاصل ہوگی تاکہ زراعت، آفات سے بچاؤ، آبی وسائل کے انتظام، موسمیاتی نگرانی اور شہری منصوبہ بندی میں مدد مل سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی پہلی خاتون خلا باز نمیرہ سلیم اپنے پہلے خلائی مشن پر روانہ ہونے کو تیار
ایکشن پلان میں واضح کیا گیا ہے کہ خلائی ٹیکنالوجیز پاکستان کی معاشی جدید کاری کے لیے ناگزیر ہیں۔
چین اور پاکستان نے زور دیا کہ خلا کے میدان میں طویل المدتی تعاون نہ صرف باہمی فائدے کا باعث ہے بلکہ اسٹریٹجک اہمیت بھی رکھتا ہے، جو دونوں ملکوں کے عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ روایتی شعبوں جیسے تجارت، انفراسٹرکچر اور دفاع کے ساتھ ساتھ جدید اور نئے شعبوں میں بھی تعاون کو وسعت دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن اسپیس کوآپریشن آؤٹ لائن پروگرام پاکستان پاکستان اسپیس سینٹر چین خلائی اسٹیشن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیس کوآپریشن آؤٹ لائن پروگرام پاکستان پاکستان اسپیس سینٹر چین خلائی اسٹیشن
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔