پاکستان اور ترکیہ کا تجارت، توانائی، آئی ٹی اور صحت کے شعبوں میں شراکت داری بڑھانے کا عزم WhatsAppFacebookTwitter 0 9 September, 2025 سب نیوز


اسلام آباد:پاکستان اور ترکیہ نے تجارت، توانائی، آئی ٹی اور صحت کے شعبوں میں شراکت داری بڑھانے کا عزم ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں 16ویں پاک ترکیہ مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس ہوا، جس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ترک وزیر دفاع یاشار گولر نے کی۔

اجلاس میں دونوں ممالک نے تجارتی و معاشی تعلقات کو نئی جہت دینے اور دوطرفہ تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
پاکستان نے ترک سرمایہ کاروں کو خصوصی اقتصادی زونز میں سہولتیں دینے کا اعلان کیا جب کہ دونوں ممالک نے تجارتی معاہدے ’’ٹریڈ اِن گُڈز ایگریمنٹ‘‘ پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ کیا۔

توانائی کے شعبے میں قابلِ تجدید ذرائع، تیل و گیس کی تلاش اور ایل این جی تجارت کے ساتھ ساتھ گرڈ ماڈرنائزیشن اور توانائی بچت کے منصوبوں میں شراکت داری پر بھی اتفاق کیا گیا۔


دفاعی تعاون کو پاک ترکیہ تعلقات کی پہچان قرار دیتے ہوئے دفاعی ٹیکنالوجی، مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور پاک و ترک افواج کے مشترکہ تربیتی پروگراموں پر بات چیت ہوئی۔ اجلاس میں زراعت، فوڈ سیکورٹی، لائیو اسٹاک، ماہی پروری اور سیڈ ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔


صحت کے شعبے میں “Heal in Türkiye” پروگرام کے ذریعے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور فیصل آباد میں پاک ترکیہ ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی سینٹر کے قیام کو سنگ میل قرار دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی ٹی، ای کامرس، فِن ٹیک، مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔


اجلاس میں میڈیا، ثقافت، سیاحت اور ہنر مند افرادی قوت کے تبادلوں کے ذریعے عوامی روابط کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ دونوں ممالک نے فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا اور جے ایم سی کے پروٹوکول کو مستقبل کے تعاون کے لیے روڈ میپ قرار دیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اور قازقستان کا تعلقات مزید مضبوط بنانے کا عزم پاکستان اور قازقستان کا تعلقات مزید مضبوط بنانے کا عزم رانا ثناء اللہ بھاری اکثریت سے سینیٹر منتخب ہوں گے، عظمیٰ بخاری پاکستان نے تاریخ کا بڑا بھیانک تجربہ جھیلا، ترقی کی راہیں ہموار کر رہے ہیں: احسن اقبال پاکستان اور ایران کے درمیان فضائی معاہدہ کامیابی سے طے پا گیا عمران خان کی 7 مقدمات میں درخواست ضمانت پر سماعت 13 ستمبر تک ملتوی این او سی کے بغیر پلاٹوں کی فروخت اور تعمیرات کا انکشاف،سی ڈی اے کا بحریہ ٹاؤن کو شوکاز نوٹس جاری،کاپی سب نیوز پر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: میں شراکت داری پاکستان اور کا عزم آئی ٹی صحت کے

پڑھیں:

روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ

طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔

بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ

دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔

افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا خراب کارکردگی کے حامل فیلڈ افسران کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کا حکم
  • پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ