Jasarat News:
2026-07-24@02:16:04 GMT

نیا دھماکہ! ٹی 20 ورلڈ کپ میں شمولیت کے لیے نئی ٹیم تیار؟

اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT

نیا دھماکہ! ٹی 20 ورلڈ کپ میں شمولیت کے لیے نئی ٹیم تیار؟

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 روم: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے لیے ایک نئی ٹیم کی شمولیت کا امکان مزید مضبوط ہوگیا ہے۔

آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے لیے یورپ ریجنل کوالیفائر میں ایک بڑا اپ سیٹ دیکھنے میں آیا جہاں اٹلی نے اسکاٹ لینڈ کو 12 رنز سے ہرا کر تاریخ رقم کرنے کی دہلیز پر قدم رکھ دیا۔

گزشتہ روز کھیلے گئے سنسنی خیز مقابلے میں سابق آسٹریلوی اوپنر اور اطالوی کپتان جو برنس نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ اطالوی ٹیم نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں پر 167 رنز بنائے۔ جواب میں اسکاٹش بیٹرز مقررہ ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے اور پوری ٹیم دباؤ کا شکار ہو کر پویلین لوٹتی رہی۔

اٹلی اب فائنل معرکے میں نیدرلینڈز سے ٹکرائے گا اور فتح کی صورت میں پہلی مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنی جگہ پکی کرے گا۔ کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اٹلی یہ کارنامہ انجام دیتا ہے تو یہ اس ملک کے لیے غیرمعمولی پیش رفت ہوگی، جو اب تک فٹبال کے لیے جانا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جو برنس کی قیادت میں اطالوی ٹیم نے اپنے کھیل سے ثابت کیا ہے کہ کرکٹ کا دائرہ کار یورپ کے غیر روایتی ممالک تک بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ورلڈ کپ کے لیے

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل