ایم کیو ایم قیادت کی جانب سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر تنقید افسوسناک ہے، ترجمان سندھ حکومت
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
اپنے بیان میں بلند خان جونیجو نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان اگر واقعی عوامی خدمت کی دعوے دار ہے تو بتائے کہ اس نے اپنے ادوارِ حکومت میں شہری غریبوں کے لیے کیا کیا؟، تنقید برائے تنقید سے بہتر ہے کہ ان سچائیوں کو تسلیم کیا جائے جو عوام کے مفاد میں ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان سندھ حکومت بلند خان جونیجو نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کی جانب سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر تنقید افسوسناک ہے۔ اپنے بیان میں ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ یہ ایک شفاف اور غیر سیاسی فلاحی منصوبہ ہے جو 90 لاکھ سے زائد کمزور گھرانوں خصوصاً خواتین کی مدد کر رہا ہے، یہ محض ایک اسکیم نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی اور وقار سے جڑا ہوا ہے۔ بلند خان جونیجو نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان اگر واقعی عوامی خدمت کی دعوے دار ہے تو بتائے کہ اس نے اپنے ادوارِ حکومت میں شہری غریبوں کے لیے کیا کیا؟، تنقید برائے تنقید سے بہتر ہے کہ ان سچائیوں کو تسلیم کیا جائے جو عوام کے مفاد میں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم ایم کی
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔