ایم کیو ایم قیادت کی جانب سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر تنقید افسوسناک ہے، ترجمان سندھ حکومت
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
اپنے بیان میں بلند خان جونیجو نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان اگر واقعی عوامی خدمت کی دعوے دار ہے تو بتائے کہ اس نے اپنے ادوارِ حکومت میں شہری غریبوں کے لیے کیا کیا؟، تنقید برائے تنقید سے بہتر ہے کہ ان سچائیوں کو تسلیم کیا جائے جو عوام کے مفاد میں ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان سندھ حکومت بلند خان جونیجو نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کی جانب سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر تنقید افسوسناک ہے۔ اپنے بیان میں ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ یہ ایک شفاف اور غیر سیاسی فلاحی منصوبہ ہے جو 90 لاکھ سے زائد کمزور گھرانوں خصوصاً خواتین کی مدد کر رہا ہے، یہ محض ایک اسکیم نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی اور وقار سے جڑا ہوا ہے۔ بلند خان جونیجو نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان اگر واقعی عوامی خدمت کی دعوے دار ہے تو بتائے کہ اس نے اپنے ادوارِ حکومت میں شہری غریبوں کے لیے کیا کیا؟، تنقید برائے تنقید سے بہتر ہے کہ ان سچائیوں کو تسلیم کیا جائے جو عوام کے مفاد میں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم ایم کی
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔